 |
|
بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ اختر مینگل |
صوبے کے اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعلیٰ سردار اختر مینگل کے خلاف تمام مقدمات واپس لے لیے گئے ہیں اور بدھ کے روز کسی بھی وقت ان کی رہائی کا امکان ہے۔
سردار مینگل کو تقریباً دو سال پہلے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب انہوں نے گوادر سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ انہیں کراچی سینٹرل جیل میں قید رکھا گیا تھا، تاہم نئی حکومت نے انہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔
ان کے خلاف بلوچستان میں 18 مقدمات درج تھے، جن میں زیادہ تر بغاوت کے تھے۔ مگرایک اور اہم مقدمہ کراچی میں دائر کیا گیا تھا، جس میں الزام تھا کہ انہوں نے ایک خفیہ ادارے کے دو اہل کاروں کو مبینہ طور پر اغوا کیا تھا۔
سردار اختر مینگل کے وکیل نے مقدمات کی واپسی کی تصدیق کی ہے۔
دوسری طرف سردار اختر مینگل نے وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی تک تحریری طور پر رہائی کے احکامات موصول نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہ محض ایک شخص کی رہائی مسئلے کا حل نہیں ہے ، جب تک بلوچستان کے تمام لوگ رہا نہیں ہو جاتے، لاپتاافراد بازیاب نہیں ہو جاتے اور بلوچستان کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے توجہ نہیں دی جاتی اس وقت تک مسائل باقی رہیں گے۔