 |
|
دیمیتری میدویدیف |
دیمیتری میدویدیف نے کریملن میں ایک شاندار تقریب میں روس کے نئے صدر کا حلف اٹھا لیا ہے۔
حلف برداری کے کچھ ہی دیر بعد انہوں نے اپنے مشیر اور پیش رو ولادی میر پوتن کو وزیر اعظم نامزد کر دیا۔
توقع ہے کہ روسی پارلیمنٹ پوتن کی نامزدگی کی فوری تصدیق کر دے گی، کیوں کہ وہاں پوٹن کے وفادار اراکین اسمبلی کی اکثریت ہے۔
بدھ کے روز چھ منٹ کے افتتاحی خطاب میں میدویدیف نے کہا کہ روس قانون کے جائز احترام کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی اور معاشرتی ترقی کی بنیاد ترقی یافتہ قانونی نظام پر ہونی چاہئیے۔
روس کی حز بِ اختلاف نے اس انتخابی عمل پر سخت نکتہ چینی کی ہے جس کے تحت میدویدیف کو مارچ کے مہینے میں بھر پور انتخابی کامیابی حاصل ہوئی۔
ناقدین نے کہا کی کہ جو دو امیدوار میدویدیف کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھے، یعنی سابق وزیر اعظم میخائل کسیانوف اور شطرنج کے سابق چیمپین گیری کاسپاروف،ا نھیں تکنیکی بنیاد پر انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔
جمعے کے روز مدویدیف اور مسٹر پوتن جنگِ عظیم دوم میں اتحاد ی فتح کی سالگرہ منانے کے لیے ریڈ اسکوائر میں ایک فوجی پریڈ میں شرکت کریں گے۔ نئے روسی صدر پوتن کے پرانے ساتھی ہیں
دیمتری میدویدیف کے نئے صدر لگ بھگ 20 سال سے سبک دوش ہونے والے صدر ولادی میر پوتن کے وفادار اور با اعتماد مشیر ہیں۔
میدوید یف تدریس کے شعبے سے وابستہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ وہ 1965ء میں اُس مقام پر پیدا ہوئے تھے جو اب سینٹ پیٹرز برگ ہے اور جو پوتن کا آبائی قصبہ بھی ہے۔انہوں نے سینٹ پیٹرز برگ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ یہ وہی یونیورسٹی ہے جہاں سے پوٹن نے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔
دونوں شخصیتوں کی ملاقات 1990ءمیں اس وقت ہوئی تھی جب وہ دونوں سینٹ پیٹرز برگ کے میئر کے لیے کام کیا کرتے تھے۔
پوٹن 1996ء میں صدارتی انتظامیہ میں عہدہ سنبھالنے کے لیے ماسکو چلے گئے۔ بعد میں 1999ء میں قائمِ مقام وزیر اعظم مقرر ہونے کے بعد وہ میدویدیف کو دارالحکومت لے آئے۔ اس کے بعد ایک سال سے بھی کم عرصے میں پوتن اس وقت قائم مقام صدر بن گئے جب بورس یلسن نے استعفیٰ دے دیا۔
میدویدیف نے پوتن کی پہلی باقاعدہ صدارتی انتخابی مہم چلائی، جس کے صلے میں کامیاب ہونے کے بعد پوتن نے انھیں روس کے سب سے بااختیار عہدے، قدرتی گیس کی سرکاری کمپنی گزپرام کاسر براہ بنا دیا۔
میدویدیف 2003ء میں چیف آف اسٹاف بن گئے اور دو سال بعد جب انہیں اول نائب وزیر اعظم نامزد کیا گیا تو پوتن کے امکانی جانشین کے طور پر ان کی حیثیت مستحکم ہو گئی۔
میدویدیف مارچ میں بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوئے اور بدھ کے رو ز انہوں نے اپنےسرپرست کو وزیراعظم کے طور پر نامزد کر دیا۔ جس سے یہ بات یقینی ہو گئی ہے کہ پوتن روس میں سیاسی طور پر بدستور بااثر رہیں گے۔