صحت کے عالمی ادارے نے کہا ہے کہ اسے یقین ہے کہ کرہٴارض پر ایک دن انسانوں کو برڈ فلو جیسی وبا کا سامنا ہوگا لیکن ایسا کب ہوگا، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
جنیوا میں اس ہفتے تقریباً 150 ماہرین اس بارے میں گفتگو کے لیے اجلاس کررہے ہیں کہ حکومتیں ایسی وبا ؤں کا کن طریقوں سے مقابلہ کرسکتی ہیں جن میں ممکنہ طورپر برڈ فلوکی وبا بھی شامل ہوسکتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے گلوبل فلو سے متعلق رابطہ کار کی جی فکودا نے کہا ہے کہ آج کے سائنس دان ایسی وبا ؤں کے خطرے اور اس سے نمٹنے کے طریقوں کے بارے میں ماضی کی نسبت کہیں زیادہ علم رکھتے ہیں۔
لیکن انہوں نے کہا کہ ملکوں کے پاس اب اس وباکا پتہ چلانے اور اس سے نمٹنے کی تیاری کے لیے اب بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہٴ صحت کے پاس برڈ فلو کے خلاف ادویات کا بڑا ذخیرہ موجود ہے اور وہ اس کی رسد میں اضافے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
ایچ فائیو این ون برڈفلو وائرس 2003ءسے اب تک دنیا بھر میں 241 افراد کی جان لے چکاہے، جن کی اکثریت کا تعلق ایشیائی ممالک سے تھا۔