 |
| سنجے دت |
بالی وڈ کے منا بھائی یعنی سنجے دت بہت جلد فلمی پردے پر مشہور فرانسیسی قاتل چارلس سوبھراج کا کردار کرتے نظر آئیں گے۔ پیپلز پکچرز کے بینر تلے بن رہی فلم ’چارلس اینڈ آئی ‘ کے ہدایت کار پراوال رمن ہیں جنہوں نے فلم ’ڈرنا منع ہے ‘ میں ہدایت کاری کے فرائض انجام دیے تھے۔
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ’چارلس اینڈ آئی‘ کی کہانی بھارتی اور ویت نامی نژاد فرانسیسی شہری چارلس سوبھراج کی زندگی سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔
فلم ’چارلس اینڈ آئی‘ میں اداکار سنجے دت ایک ایسےشاطر مزاج مجرم کا کردار کر رہے ہیں جس نے ایشائی ممالک میں کئی سیاحوں قتل کر کے پولیس کی نیند حرام کردی تھی۔
واضح رہے کہ فلمی پردے پر سوبھراج جیسے سفاک اور حاضر دماغ مجرم کا رول کرنے والے سنجےدت کو اصل زندگی میں 1993ء میں ممبئی میں ہوئے بم دھماکوں کے مقدمے میں ٹاڈا عدالت نے قصوروار پایا تھا اور اُنہیں غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں چھ برس قید کی سزا سنائی گئي تھی۔ فی الحال سنجے ضمانت پر رہا ہے۔
 |
|
سنجے دت کے لیے کورٹ کچہری، حوالات تھانہ کوئی نئی بات نہیں ہے |
سوبھراج پر70 کی دہائی میں ایشائی ممالک میں ہونے والی قتل کی20 سے زائد وارداتوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ وہ پانچ مرتبہ بھارت، افغانستان ، فرانس ، ایران اور یونان کی جیلوں سے فرار ہوچکے ہیں۔ بھارت میں سوبھراج نے 20 سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے ہیں۔
64 سالہ سوبھراج اِس وقت نیپال کی جیل میں قید ہیں۔ انھیں 1975ء میں دو سیاحوں کے قتل کے سلسلے میں نیپال میں گرفتار کیا گیا تھا۔
بالی وڈ میں کھل نائیک کا رول کرنے وا لے سنجے بھلے ہی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے کہ اُن کی جھولی میں سوبھراج جیسا کردار آیا ہے۔
تاہم اِطلاعات کے مطابق نیپال کی جیل میں قید سوبھراج اپنی زندگی پر بن رہی فلم کی خبر سے خوش نہیں ہیں اور وہ پیپلز پکچرز پر مقدمہ کرنے کے بارے سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں۔