![Freedom House moderator with Dr. Masmoudi [Center] and Chris Walker [Right]<br />](/urdu/images/DSC03636a.jpg) |
|
فریڈم ہاؤس |
دنیا بھر میں شخصی آزادی پر سالانہ رپورٹس جاری کرنے والے ادارے نے اب امریکہ کو بھی اپنی توجہ کا موضوع بنایا ہے اور فریڈم ہاؤس نامی اس دارے نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے دوران شہری آزادیوں کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
فریڈم ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکہ میں آج بھی مذہبی اور صحافتی آزادی موجود ہے۔ مگر سینیر صحافی ہیلن تھامس کہتی ہیں کہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد میڈیا نے خود ہی اپنے اوپر پابندیاں لگا لی ہیں، شاید اس خوف کے پیش نظر کہ کہیں ان کی حب الوطنی کو شک کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔
ہیلن کہتی ہیں کہ دوسروں کے ٹیلی فون خفیہ طریقے سے ٹیپ کرنا اور کسی بھی شخص سے دہشت گردی کے حوالے سے پوچھ گچھ کرنے کی اجازت کے نئے قوانین نے امریکہ میں معاشرتی آزادی کو تصور کو گہنا دیا ہے۔ کچھ لوگ اس کا قصور وار بش انتظامیہ کو ٹھراتے ہیں۔
فریڈم ہاؤس کے مطابق ووٹ دینے کی آزادی جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔ اس تنظیم سے وابستہ ایک ماہر کے سٹوارٹ آئزن سٹیس کہتے ہیں کہ شخصی آزادیوں پر رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ووٹنگ کے مسائل موجود ہیں۔ کم آمدنی والے لوگ ووٹ ڈالنے نہیں پہنچ سکتے۔ ووٹنگ مشینوں کی گنتی سے متعلق مسائل موجود ہیں ۔ قیدیوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہے اور آج کی مستحکم جمہوریتوں میں امریکہ میں ووٹ ڈالنے کی شرح سب سے کم ہے۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ امریکہ میں بسنے والے افراد کا رنگ اور نسل چاہے کچھ بھی ہو ،شخصی آزادی کے حوالے سے سب کو یکساں طور پر مواقع حاصل ہیں۔