 |
|
نوشاد علی کی ایک یاد گار تصویر |
آج سے تقریباً دو سال قبل (پانچ مئی 2006ء) موسیقار اعظم نوشاد علی کی سانسوں کا تار ٹوٹ گیا تھا۔ مگر ان کے چھیڑے ہوئے ساز برسہا برس تک سر بکھیرتے رہیں گے۔ بقول مجاز:
چھپ گئے وہ ساز ہستی چھیڑ کر
اب تو بس آواز ہی آواز ہے
نوشاد علی جو فلموں میں صرف نوشاد کے نام سے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے طویل عمر پائی اور 86 برس تک دنیائے فانی میں رہے جس میں سے 70 برس وہ موسیقی کے تاروں کو چھیڑتے رہے۔ نوشاد کا انتخاب بہت سخت ہوتا تھا اس لیے وہ ہر ایری غیری فلم میں موسیقی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے 70 برس کی فلمی زندگی میں صرف 66 فلموں کے لیے ہی موسیقی دی۔
نوشاد 25 دسمبر 1919ء کو لکھنئو کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام واحد علی تھا۔ نوشاد نے صرف ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کی کیونکہ گھریلو حالات کے سبب تعلیم کا سلسلہ دراز نہ ہوسکا۔ تب انہیں ان کے ماموں کی ساز کی دکان پر بیٹھا دیا گیا، جہاں ان کو ہارمونیم کی مرمت کا کام سکھایا گیا اور وہ اسی کام میں لگ گئے۔
دن رات سازوں کے ساتھ رہنے اور ہارمونیم کی مرمت کرتے ہوئے ان کی راگ اور ساز سے دلچسپی پیدا ہو گئی ان کی انگلیاں ساز کے تاروں کو چھیڑنے لگی۔ نوخیر نوشاد علی کے ذہن میں جذبات کا طوفان اٹھنے لگا۔ انہوں نے اپنے احساسات کا ذکر رشتے کے بھائی سمیع اللہ سے کیا اور دونوں پارسی تھیٹر جانے لگے وہاں انہوں نے ہارمونیم کے ذریعہ موسیقی کی جو لہریں پیدا کیں اس کی نہ صرف سامعین کے ذریعہ خوب داد ملی، اس سے ان کی ہمت افزائی بھی ہوئی۔ اس زمانے میں بمبئی کی فلمی دنیاآباد ہونی ہی شروع ہوئی تھی تب نوشاد نے 1937ء میں بمبئی کا رخ کیا۔
بمبئی میں انھیں شب و روز جدوجہد کرنی پڑی، آغاز میں ان کی راتیں خالی پیٹ فٹ پاتھ پر گزرتی تھیں مگر نوشاد نے ہار نہیں مانی۔ وہ اپنی محنت سے اس وقت کے نامور موسیقار مشتاق حسین کے سازندوں میں شامل ہو گئے۔ کچھ فلموں میں انہوں نے اسسٹنٹ میوزک ڈائرکٹر کے طور پر جزوی خدمات انجام دی۔ انہیں باقاعدہ 1940ء میں فلم ’پریم نگر‘میں موسیقی دینے کا موقع ملا اور اس کے بعد نوشاد نے کبھی مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا۔
اس کے بعد ان کا نام فلموں کی کامیابی کا ضمانت بن گیااور نوشاد کی موسیقی کے جادو نے عوام کا اپنا گرویدہ بنالیا۔ ان کی موسیقی میں نامور گلوکاروں کندن لال سہگل، جی ایم دّرانی، مکیش، طلعت محمود، ہیمنت کمار، منّا ڈے، ملکہ ترنم نورجہاں، امیر بائی کرناٹکی، زہرا بائی امبالے والی، شہناز بیگم، محمد رفیع، لتا منگیشکر نے ایسے ایسے گانے گائے جو عوام کے ذہنوں پر چھا گئے۔
نوشاد کی موسیقی فلمی گانوں میں نئی جان ڈال دیتی تھی۔ ان کی موسیقی کا ذہنوں پر ایسا اثر ہے کہ آج بھی جب یہ گانے بجائے جاتے ہیں تو لوگ ساکن ہوکر سننے لگتے ہیں۔ فلم ’مغل اعظم ‘ نوشاد کا شاہکار ہے۔ جس کے تمام گانے ہٹ ہوئے اور آج بھی عوام جب انہیں سنتے ہیں تو دل کے تار جھنجھنا اُٹھتے ہیں۔
نوشاد نے شہرت کی بلندی کو چھوا تھا۔ انہیں متعدد انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ جن میں فلموں کا سب سے بڑا انعام ’فلم فیئر ایوارڈ ‘ اور بھارت کا شہری اعزاز ’پدم بھوشن‘ بھی شامل ہیں۔ نوشاد نے آخری بار موسیقی اکبر خان کی فلم ’تاج محل ‘میں دی تھی اس کے پریمیئر کے موقع پر وہ پاکستان بھی جانے کے خواہش مند تھے مگر علالت کے سبب نہیں جاسکے۔ انہوں نے صرف ایک ہی ٹی وی سیریل ’ٹیپو سلطان کی تلوار ‘میں موسیقی دی تھی اور یہ اب تک کا بھارت کا سب سے مقبول عام سیریل تھا۔
نوشاد عظیم موسیقار ہی نہیں خوش فکر شاعر بھی تھے وہ ادبی نشستوں میں شرکت کرتے تھے اور اپنا کلام سناتے تھے ان کا شعری مجموعہ ’ آٹھواں سُر‘ ان کی زندگی ہی میں شائع ہوا تھا۔ ان کے اشعار سادہ اور پُرکار ہوا کرتے تھے:
آبادیوں میں دشت کا منظر بھی آئے گا
گزروگے شہر سے تو مرا گھر بھی آئے گا
منزل مجھے ملے نہ ملے اس کا غم نہیں
ؤمنزل کی جستجو میں مرا کارواں رہے
نوشاد کے لیے منزل کی تلاش کبھی ختم نہیں ہوئی اور کتنی ہی منزلیں ان کے راستے میں آتی جاتی رہیں۔ یہاں تک کہ پانچ مئی 2006ء کو ان کا سفر ختم ہو گیا اور موسیقی کا یہ روشن باب بند ہو گیا۔ اس طرح آٹھوں سر خاموش ہو گیا۔