غیر قانونی طور پر کینیڈا میں داخل ہونے والے 41 ہزار تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے لیے یہاں کی حکومت مشکلات سے دوچار ہے۔
یہ مسئلہ اُس وقت اور پیچیدہ ہوگیا جب کینیڈا کی بارڈر سروسز ایجنسی نے واضح طور پر یہ کہہ دیا تھا کہ اُس کا ملک بدر کیے جانے والے افراد سے رابطہ نہیں ہے اور اُس کے لیے یہ جاننا دشوار ہے کہ یہ لوگ ملک کے کِن کِن شہروں میں آباد ہیں اور ممکن ہے کہ اِن میں سے بہت سے افراد ملک چھوڑ کر چلے بھی گئے ہوں۔
گذشتہ ہفتے کینیڈاکی آڈیٹر جنرل شیلا فریزر نے یہ سوال اُٹھایا تھا کہ 40ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کرکے ملک بدر کیے جانے کے لیے احکامات جاری کیے گئے تھے، لیکن اُنہیں ابھی تک کینیڈا سے باہر کیوں نہیں نکالا گیا۔
اِن میں سے بیشتر افراد وہ ہیں جِنہوں نے کینیڈا کی عدالتوں میں پناہ حاصل کرنے کے لیے درخواستیں دی ہوئی تھیں۔ چوں کہ اب پناہ دینے کے حوالے سے حکومت میں قانون سخت کر دیے ہیں،لہٰذااکثر عدالتوں میں اُن کی اپیلیں مسترد کردی تھیں اور اُنہیں ملک بدر کیے جانے کے لیے احکامات جاری کیے تھے۔
عام طور سے جب اُن کے مقدمات عدالت میں زیرِ سماعت ہوتے ہیں تو پناہ کی درخواست کرنے والوں کو نہ تو جیل میں رکھا جاتا ہے اور نہ ہی یہ افراد پولیس کی حراست میں ہوتے ہیں۔
اگرچہ حکومت نے یہ ظاہر نہیں کیا ہے کہ 41ہزار افراد جِنہیں ملک بدر کرنا مقصود ہے اُن کا تعلق کن ممالک سے ہے، لیکن وکلا کا کہنا ہے کہ اِن میں سے خاصی بڑی تعداد پاکستان اور جنوبی ایشیا کے کئی دوسرے ممالک سے ہے۔اِن میں سے بہت سے وہ افراد بھی ہیں جو غیر قانونی طور پر امریکہ میں رہ رہے تھے اور بعد میں کینیڈا میں آکر آباد ہوگئے تھے۔
دریں اثنا سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ دشواریوں کے باوجود گذشتہ دو سالوں میں کینیڈین بارڈر سروسز ایجنسی نے ساڑھے بارہ ہزار افراد کو ملک بدر کیا ہے جِس نے 1900وہ لوگ بھی شامل ہیں جو جرائم پیشہ تھے۔
2001ء میں امریکہ میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد کینیڈا کی حکومت نے غیر قانونی طور پر رہنے والے تارکینِ وطن کی گرفتاری اور اُنہیں ملک بدر کرنے کی ذمہ داری بارڈر ایجنسی کے سپرد کی تھی۔ کینیڈا کے پبلک سیفٹی کے وفاقی وزیر سٹاک ویلڈے کا کہنا ہے کہ بارڈر ایجنسی اپنے انتظامات کو بہتر کر رہی ہے اور اُنہیں امید ہے کہ کینیڈا میں غیر قانونی طور پر رہنے والے تارکینِ وطن کو یہ آہستہ آہستہ ملک بدر کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔