ججوں کی بحالی کا بحران جوپاکستان کے حکمران اتحاد کے مستقبل کے لیے کافی عرصے سے سوالیہ نشان بنا ہوا ہے اب لندن کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
عام طور پر الٹی گنتی ایک تک پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن پچھلے مہینے جب اُلٹی گنتی کرنے والے حضرات ایک سے نیچے اتر کر صفر کے قریب پہنچنے والے تھے لیکن اس کے باوجود معاہدہِ بھوربن پر عمل درآمد کے کوئی آثار نظر نہیں آئے تو اس وقت میاں نواز شریف نے اپنے بھائی شہباز شریف سمیت کئی کلیدی رہنماؤں کو دبئی بھیج دیا تھا تاکہ پیپلز پارٹی کے رہنما آصف زرداری کو قائل کیا جاسکے۔
جب برادرِ خورد معاملہ حل نہ کر سکے تو بڑے بھائی یعنی میاں نواز شریف خود دبئی پہنچے ۔ مذاکرات کے طویل ادوار کے بعد نواز شریف نے لاہور میں اعلان کیا کہ 12 مئی تک دو نومبر کی عدلیہ کو بذریعہ قرارداد اور ایک انتظامی حکم کے بعد بحال کردیا جائے گا۔
قرارداد کا مسؤدہ تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے کل اپنی کارروائی مکمل کرلی۔ لیکن کمیٹی کے ارکان، بالخصوص حفیظ پیرزادہ اور اعتزاز احسن کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔
سب سے زیادہ اختلافات ججوں کی بحالی کے طریقہِ کار اور تین نومبر کے بعدجنرل مشرف کی طرف سے مقرر کردہ ججوں کے مستقبل اور چیف جسٹس کی میعادِ ملازمت کے بارے میں بتائے جاتے ہیں۔
میاں نواز شریف نے اعلان کیا تھا کہ کمیٹی اس صورت میں اعلیٰ قیادت سے رجوع کرے گی جب وہ کسی تعطل کا شکار ہوجائے۔
اگرچہ وزیرِ قانون فاروق نائک کہتے ہیں کہ قرارداد پر کوئی اختلافات موجود نہیں ہیں، نواز شریف کا بیان کہ ججوں کی بحالی کے لیے سیاسی عزم کی ضرورت ہے، میاں شہباز شریف اور خواجہ آصف کی لندن روانگی، جہاں میاں نواز شریف اپنی اہلیہ کی تیمارداری میں مصروف ہیں، اور آج پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری کی لندن آمد یہ ثابت کرتی ہے کہ لندن میں اور باتوں کے علاوہ پاکستانی سیاست کے مردِ بیمار کا علاج کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
دبئی چلو کے بعد اب لندن چلو کا نعرہ گونج رہا ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر لندن کے مذاکرات میں بھی بات نہ بنی تو ان کا اگلا دور کہاں منعقد ہو گا:
مرکے بھی چین نہ آیا تو کدھر جائیں گے