ہفتے کو واگہہ سرحد پر بھارتی حکام نے ایک پاکستانی شہری محمد اکرم کی میّت یہ کہتے ہوئے پاکستانی حکام کے حوالے کی کہ غلطی سے سرحد عبور کرنے والا یہ شخص ایک ذہنی مرض کے سبب 26اپریل کو بھارت کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گیا تھا۔
محمد اکرم کے لواحقین کا کہنا ہے کہ محمد اکرم کے دماغ میں پھوڑا تھا اور اُس کے آپریشن بھی ہو چکے تھے۔ تاہم، اُنہوں نے محمد اکرم کی موت تشدد سے واقع ہونے کا شبہ ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی جیل میں قید بھارتی شہری سربجیت سنگھ کو فوری پھانسی دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
خیال رہے کہ تقریباً دو ماہ پہلے ایک اور پاکستانی شہری خالد محمود کی لاش بھی بھارت سے پاکستان آئی تھی جِس کو مبینہ طور پر بھارت میں تشدد کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا۔
اُس وقت بھی یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ مبینہ بھارتی دہشت گرد سربجیت سنگھ کی پھانسی کی سزا پر فوری عمل درآمد کرایا جائے۔
خیال رہے کہ سربجیت سنگھ کو پاکستان میں دھماکے کرنے کے جرم میں دی جانے والی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کو جو اِس برس 30 اپریل کو ہونا تھا صدر مشرف کے حکم پر ایک ماہ کے لیے مؤخر کیا گیا تھا اور بعد ازاں بھارتی حکومت کی طرف سے رحم کی اپیل کے بعد سزا پر عمل درآمد غیر معینہ عرصے کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔