بھارت کی متعدد مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات، سیاستدانوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور صحافیوں نے دہشت گردی کی تمام تر شکلوں کی مذمت کی ہے اور تشدد کو اسلام سے جوڑنے کو ایک سازش قرار دیا ہے۔
اُنہوں نے جامع مسجد دہلی کے سامنے واقع وسیع و عریض اردو پارک میں منعقدہ دہشت گردی مخالف کُل ہند اجلاس میں تقاریر کر تے ہوئے کہا کہ دہشت گردی صرف وہ نہیں ہے جو عام طور پر نظر آتی ہے بلکہ کسی واقعے کی آڑ میں بے قصوروں کو پکڑ کر ظلم ڈھانا بھی دہشت گردی ہے۔
اُنہوں نے جہاں دہشت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی پر زور دیا وہیں ریاستی دہشت گردی کے قصوروار پولیس والوں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ۔
بعض مقررین نے ہندو تنظیموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی دہشت گردی میں ملوث ہیں مگر اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔
مقررین نے عالمی دہشت گردی کے لیے مغربی طاقتوں کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ سازش کے تحت تشدد کے واقعات کو اسلام سے جوڑا جا رہا ہے۔
اِس عوامی اجلاس کا اہتمام تنظیم دارالعلوم دیوبند، مدارسِ اسلامیہ، اور مساجد نے کیا تھا اور اِس میں جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی، مولانا سلمان ندوی، جگت گُروشنکر اچاریہ اور انسانی حقوق کے علمبردار متعدد شخصیات نے شرکت کی۔