معزول عدلیہ کی بحالی کے لیے طے کردہ 12مئی کی ڈیڈلائن قریب تر ہے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت کے درمیان ججوں کی بحالی کے طریقہٴکار پر اختلافِ رائے اب بھی برقرار ہے۔
اِس معاملے پر پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کے درمیان لندن میں جمعے اور ہفتے کے روز مذاکرات ہوئے، جِن میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
اُدھر، آصف علی زرداری نے ایک غیر ملکی ٹیلی ویژن چینل کو تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ججوں کی بحالی کے معاملے پر کوئی اصولی اختلاف نہیں ہے۔ تاہم، اختلافِ رائے اِس بات پر ہے کہ بحالی کے لیے کون سا طریقہٴ کار اپنایا جائے۔
آصف زرداری نے کہا کہ جو مسلم لیگ ن چاہتی ہے وہ وزارتِ قانون کے مطابق کسی حد تک غیر قانونی ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ کسی ایک غیر قانونی اقدام کو صحیح کرنے کے لیے دوسرا غیر قانونی اقدام نہیں لیا جا سکتا۔
مسلم لیگ ن کے ترجمان صدیق الفاروق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر معزول عدلیہ 12مئی کی ڈیڈ لائن تک بحال نہ ہوئی تو اُن کی جماعت وزارتیں چھوڑنے یا حکومتی اتحاد سے الگ ہوکر اپوزیشن میں بیٹھنے پر غور کرے گی۔
دریں اثنا، بعض مقامی ٹیلی ویژن چینلوں نے اطلاع دی ہے کہ امریکی نائب وزیرِ خارجہ رچرڈ باؤچر نے لندن میں نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری سے ملاقاتیں کی ہیں، جِن میں عدلیہ کی بحالی کے معاملے پر اختلافات دور کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔