Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

ہوئی مدت کہ منٹو مر گیا پر یاد آتا ہے


May 11, 2008

Manto
سعادت حسن منٹو
بیسویں صدی میں اردو فکشن کا تذکرہ کہیں سے شروع کیا جائے اس میں سعادت حسن منٹو (1921۔1955ء) کا نام ضرور شامل ہوگا ۔ ان کے ذکر کے بغیر فکشن نگاروں کی کوئی فہرست مکمل نہیں ہو سکتی حالانکہ اجل نے منٹو کو بہت کم وقت دیا یعنی انہوں نے صرف 34برس کی عمر پائی ۔ لیکن جو کچھ لکھا اس کا ذکر اس زمانے میں بھی ہوا اور آج تک ہو رہا ہے کیونکہ ان کے افسانے ماورائے عصر ہیں ۔

    

لکھنا منٹو کی ضرورت تھا کیونکہ یہی ان کی روزی روٹی تھی ایک طرح سے وہ قلم کے مزدور تھے ۔ اس لئے انہوں نے نہ صرف افسانے اور ناول لکھے بلکہ انشائیے ، ڈرامے ، رپور تاژ اور خاکے بھی لکھے ۔ فلموں کے لئے منظرنامے اور مکالمے رقم کئے اور فلمی دنیا کی برائیوں کو بھی بے نقاب کیا ۔

    

منٹو نے جس وقت لکھنا شروع کیا اس وقت اردو افسانے کے افق پر کئے بڑے نام موجود تھے ۔ جن میں پریم چند ، سدرشن ، علی عباس حسینی، نیاز فتحپوری ، ابوالفضل صدیقی اور اعظم کریوی وغیرہ کے نام آتے ہیں ۔ منٹو کے ہم عصروں میں کرش چندر ،راجندر سنگھ بیدی ، اپندر ناتھ اشک، غلام عباس اور عصمت چغتائی جیسی شخصیتیں تھیں ۔ مگر منٹو کے منفرد آرٹ کے سامنے سبھوں کا چراغ ماند پڑ گیا ۔ منٹو ان سب میں قدآور بن کر ابھرے اس کا ایک سبب تو ان کی بے باکی ، بے خوفی اور جرآت مندی ہے جو منٹو کی تحریروں میں ہر جگہ نظر آتی ہے ۔ اسی باعث ان کے کئی افسانوں کو فحش قرار دیا گیا اور کچھ پر تو مقدمے بھی چلے جس کے باعث انہیں عدالتوں کے چکر لگانے پڑے ۔ ایک طرح سے منٹو کی تحریروں کے سبب ہی دانشور حلقوں میں یہ بحث بھی چھڑی کہ آخر فحاشی ہے کیا ۔

    

برصغیر میں فکشن کی دنیا کا سب سے بڑا نام منٹو ہے ۔ اس لئے ان کی تخلیقات کا ترجمہ بیشتر زبانوں میں ہو چکا ہے بلکہ اردو کے مقابلے میں ان کی کتابیں دوسری زبانوں میں زیادہ فروخت ہوئی ہیں ۔

    

یہ ایک المیہ ضرور ہے کہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھنے کے باوجود منٹو ہمیشہ مفلوک الحال رہے اور اسی مفلوک الحالی میں دم توڑ دیا ۔ پاکستان کے مشہور کالم نگار ناصر زیدی روزنامہ پاکستان کے اپنے کالم ’بادشمال‘ میں لکھتے ہیں کہ میں نے ”ادب لطیف “کے دفتر میں وہ رسیدیں دیکھی ہیں جب منٹو تیس روپے روزانہ کے عوض ہر دن ایک افسانہ لکھا کرتے تھے ۔ رو زانہ ایک افسانہ لکھنا کوئی معمولی بات نہیں ہے ان کے وہ تمام افسانے بھی اردو ادب کا شاہکار ہے ۔

    

منٹو کے افسانوں کا آج زیادہ با معنی بن کر ابھرنے کا ایک سبب یہ ہے انہوں نے عصری حالات سے خود کو جوڑے رکھا اپنے عہد کے انسان اس کے جذبات و احساسات کی عکاسی کی ۔ انسانی دکھ درد کو زبان دی ۔ اسی کے باعث ان کے افسانے وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ نکھرتے چلے گئے ۔ انسانوں کا وہ درد و کرب آج بھی زندہ ہے جس کی ترجمانی منٹو نے کی تھی ۔ درحقیقت دنیا نے درد و کرب کی شکل میں انہیں جو کچھ دیا تھا افسانوں کی شکل میں انہوں نے دنیا کو واپس لوٹا دیا اور یہی منٹو کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ ان کے افسانے ’کالی شلوار‘ ’ہتک ‘ ’ بُو‘ ’ ٹھنڈا گوشت‘ ’ ٹوباٹیک سنگھ ‘ ’ موذیل‘ ’ بابو گوپی ناتھ ‘ ’ سرکنڈے کے پیچھے ‘ ’ خالی ڈبے خالی بوتلیں ‘ ’ کھول دو ‘ آج بھی زندہ ہیں ۔

 

ہندوستان کی تقسیم کا ذکر جب بھی ہوتا ہے تو تقسیم کے موضوع پر لکھے ہوئے منٹو کے افسانے خود بخود زندہ ہو جاتے ہیں ۔ ان کے ’سیاہ حاشیے‘ آج بھی بامعنی ہیں ۔ فرقہ وارانہ فساد کا ذکر آتے ہی منٹو کے افسانہ ’کھول دو‘ کا ذکر آنا لازمی ہے ۔ دراصل یہ افسانہ قاری کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے ۔

    

11 مئی 1955 کو اس عظیم تخلیق کار کا لاہور میں انتقال ہو گیا ۔ لیکن اس کے ساتھ منٹو کی کہانی ختم نہیں ہوئی کیونکہ یہ کہانی کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتی ۔

 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
پاکستان مطلوبہ افراد کی بھارتی فہرست کا جائزہ لے گا

  مزید خبریں
ممبئی حملوں کی تحقیقات کے لیے مشترکہ کمیشن بنانے کی تجویز
پاک بھارت کشیدگی پر ہنگامی اجلاس
کراچی،تشدد میں بتدریج کمی
دہلی کے بعدامریکی وزیر خارجہ اسلام آباد آئیں گی
بھارت کی جانب سے پاکستان پر باضابطہ الزام
بغداد اور موصل میں بموں کے حملوں میں 33لوگ ہلاک
وھیل کے نغموں کا کھوج لگانے کی جستجو
ممبئی حملے، اوباما کو اقتدار سے قبل ہی چیلنج کا سامنا  Video clip available
ہیلری کلنٹن وزیر خارجہ نامزد  Video clip available
ورجینیا میں ایک اردو ادبی محفل  Video clip available
ایران میں ایک نئے میزائل کا تجربہ
اوباما نے ہلیری کلنٹن کو وزیرِ خارجہ مقرر کر دیا
باغیوں کے اہم شہر پر سری لنکا کی فوج کا قبضہ
افغانستان میں بم کے خود کُش حملے میں 10 افراد ہلاک
بنکاک: مظاہرین عدالتی فیصلے کے منتظر 
کمال اتاترک کی زندگی پر ایک متنازعہ فلم 
امریکہ میں سبزی خوری کے رجحان میں اضافہ
ایڈز کا عالمی دن: بیشتر توجہ روک تھام پر مرکوز
امریکہ کسادبازاری سے دوچار ہے: اقتصادی ماہرین
غیرملکی عناصر قوموں کو یرغمال نہیں بنا سکتے ،صدر زرداری
ممبئی حملوں سے فلمی دنیا لرزہ براندام
”پاکستان ممبئی دھماکو ں کی تحقیقات میں مکمل تعاون کرے“
سوات خود کش حملہ کم ازکم سات ہلاک
کراچی میں تشدد جاری ،مزید11 ہلاک
پاک بھارت تناؤ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو دھچکا لگ سکتا ہے  Video clip available
ممبئی میں دہشت گرد حملوں کے بعد بھارت۔پاک تعلقات پر خطرے کے بادل
امریکہ میں نئے صدر کی آمد اور پرانے صدر کی رخصتی کس طرح ہوتی ہے؟  Video clip available
واشنگٹن کی تاریخی عمارتوں کے دلچسپ حقائق  Video clip available
وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنا بیرون ملک دورہ منسوخ کردیا
چینی صدر کا اقتصادی انحطاط کے بارے میں انتباہ
اوباما معیشت کی بحالی کے لیے پرعزم ہیں  Video clip available
اوباما ، ہلری کلنٹن کو وزیرِ خارجہ نامزد کردیں گے
صومالی سمندری ڈاکؤں کے ساتھ سمجھوتا  یوکرین کے جہاز کو جلد ہی چھوڑ دیا جائے گا
کابل میں بم کا خوکُش حملہ  تین افراد ہلاک چھ زخمی
بنوں، لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں
پکڑے ہوئے دہشت گرد کا کہنا ہے کہ اُسے کیے گئے قتلِ عام پرکوئی پشیمانی نہیں
اسرائیل نے مزید فلسطیوں کی رہائی کی منظوری دے دی