 |
| وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی |
وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے دو روزہ دورہٴ لاہور کے دوران اتوار کو سرکاری عہدے داروں کے علاوہ مختلف سیاسی شخصیتوں سے بھی ملاقاتیں کیں، جِن میں پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ق کے فارورڈ بلاک کے لیڈر کے ساتھ اُن کی ملاقات بھی شامل تھی۔
یہ ملاقات اِن قیاس آرائیوں کے تناظر میں اہمیت کی حامل ہے کہ معزول ججوں کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے مابین مذاکرات میں تعطل اگر دونوں کی علیحدگی پر منتج ہوتا ہے،تو پھر پنجاب میں حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو پی ایم ایل ق اور اُس کے فارورڈ بلاک دونوں کی ضرورت ہوگی۔
مسلم لیگ ق کی قیادت اِس وقت چودھری برادران کے پاس ہے اور اتوار کو مسلم لیگی رہنما میاں منظور احمد وٹو جب وزیرِ اعظم سے ملاقات کے لیے جارہے تھے تو ایک صحافی نے اُن سے پوچھا کہ اگر چودھری برادران کو مسلم لیگ کی قیادت سے ہٹا دیا جائے تو اُن کے خیال میں کیا مسلم لیگ ق اور پیپلز پارٹی مل کر ملک کی بہتر خدمت کر پائیں گی۔ منظور وٹو کا جواب تھا:’میں تو چودھری صاحبان کو ہٹانے والوں میں شامل نہیں ہوں ،نہ میں اِس سلسلے میں کوئی کوشش کر رہا ہوں کہ چودھری صاحبان کو ہٹا دیا جائے۔ یہ پی ایم ایل قائدِ اعظم کا اندرونی معاملہ ہے۔‘
خیال رہے کہ حالیہ دِنوں میں یہ خبریں سامنے آ چکی ہیں کہ صدر مشرف مسلم لیگ ق کی ایسی نئی قیادت چاہتے ہیں جو پیپلز پارٹی کے لیے بھی قابلِ قبول ہو۔