 |
|
برما کے سیلاب زدہ علاقے |
ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کا ایک سامان بردار طیارہ امدادی سامان لے کر برما کے دارالحکومت رنگون پہنچ گیا ہے۔ ریڈ کراس کے بیان کے مطابق اس طیّارے میں تقریباً دس ہزار افراد کے لیے ادویات، اور پانی صاف کرنے کا پلانٹ تھا، لیکن اس سامان کو سیلاب زدہ علاقے میں لے جانے والی کشتی راستے میں ڈوب گئی ہے۔
عالمی برادری نے ایک ارب ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے مگر فوجی حکمران خوراک کی ہنگامی امداد کو ہوائی اڈوں پر روک رہے ہیں۔ وہ غیرملکی ماہرین کو ویزے جاری نہیں کررہے اور امدادی سامان خود تقسیم کرنے پر اصرار کررہے ہیں۔
برما میں سائیکلون کے متاثرین کے لیے طیاروں سےامدادی سامان گرایا جارہا ہے جبکہ ہزاروں برمی پناہ گزین طوفان سے تباہ ہونے والے علاقوں سے نکل رہے ہیں۔دوسری جانب ابھی تک ایسی کوئی علامت نہیں ہے کہ برما کی فوجی حکومت غیر ملکی ماہرین کو امدادی سامان تقسیم کرنے کی اجازت دے گی۔
برما کے سرکاری ٹیلی ویژن نے خبر دی ہے کہ طوفان سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 28 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اب بھی 37 ہزار لاپتہ ہیں۔ بعض امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے۔
کئی موقعوں پر امدادی سامان ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی تقریبات میں دیا جارہا ہے جس میں امدادی سامان کے ڈبوں پر کئی بڑے فوجی جنرل کا نام لکھا ہوا نظر آتا ہے۔
برطانوی امدادی ادارے آکسفام کی علاقائی ڈائریکٹر سارہ ایرلینڈ نے اتوار کے روز بنکاک میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ 15 لاکھ افراد خوراک اور پینے کے صاف پانی کی قلت کے باعث ہلاک ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں جبکہ زندگی بچانے کی بنیادی رسد ان تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔