 |
|
سوڈانی صدر عمر البشیر |
سوڈان کےاپنے پڑوسی ملک چاڈ سے تعلقات اس الزام کے بعد کشیدہ ہوگئے ہیں چاڈ نے سوڈانی دارلحکومت خرطوم میں دارفر کے باغیوں کے ایک حملےمیں مدد دی تھی۔
اتوار کے روز قومی رابطے پر نشر کیے گئے ایک خطاب میں سوڈانی صدر عمر البشیر نے کہا کہ وہ چاڈ حکومت کو ہفتے کے روز ہونے والے حملے کی ذمہ دار سمجھتے ہیں اور ان کے پاس چاڈ سے تعلقات منقطع کرنے کے سوا کو ئی اور چارہ کار نہیں ہے۔
صدر بشیر نے یہ بھی کہا کہ جسٹس اینڈ ایکولٹی موومنٹ پارٹی کے باغیوں کے حملے کو مکمل طورپر ناکام بنا دیا گیا ہے۔ عہدے داروں نے خرطوم سے کرفیو اٹھا لیا ہے اگرچہ دریائے نیل کے پار اوم درمان شہر پر ابھی کرفیو باقی ہے۔
سوڈانی ٹیلی وژن نے ، جے ای ایم، کے لیڈر خلیل ابراہیم کی تصویریہ کہتے ہوئے دکھائی ہے کہ وہ ممکن ہے کہ اوم درمان میں چھپے ہوئے ہوں۔ ٹیلی وژن نے شہریوں پر زوردیا ہے کہ اگر وہ انہیں دیکھیں تو حکام کو اطلاع دیں۔
باغیوں کا یہ حملہ ، پہلا موقع ہے کہ جب دارفر کی لڑائی سوڈانی دارلحکومت تک پہنچ گئی ہے۔ چاڈ حکومت نے حملے میں کسی بھی طرح ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔