 |
|
سپریم کورٹ |
سپریم کورٹ نے نجی ٹی وی چینلز پر مباحثوں میں ججوں کے خلاف کسی بھی قسم کے تضحیک آمیز الفاظ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ جسٹس نواز عباسی کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے یہ ہدایت جیو ٹی وی کےابصار عالم کی طرف سے گذشتہ ہفتے نشر کی گئی ایک رپورٹ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے جاری کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ نے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر ، جسٹس نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر سے ملاقات کی ہے۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے ایسی کسی بھی ملاقات کی تردید کی گئی ہے۔
پیر کے روز عدالت عظمٰی نے ابصار عالم کو طلب کر کے استفسارکیا کہ انھوں نے اپنی رپورٹ کن ذارئع کی بنیاد پر نشر کی۔ جیو ٹی وی کے ابصارعالم نے اپنے وکیل سے صلاح و مشورے کے لیے کورٹ سے وقت طلب کیا ہے اور کیس کی سماعت 22 مئی تک ملتوی ہو گئی ہے۔ سماعت کے دوران اپنے پہلے فیصلے میں بینچ نے ہدایت کی تھی کہ ججوں کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں کوئی بھی خبر شائع یا نشر نہیں کی جاسکتی جس پر کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں نے تحفظات کا اظہار کیا جب کہ خود عدالت کے معاون وکیل عدلیہ عبدالحفیظ پیرزادہ نے بھی اس ہدایت کو ناقابل عمل قرار دیا جس پر بینچ کو اپنافیصلہ تبدیل کر کے صرف اس حد تک محدود کرنا پڑا کہ ٹی وی چینلز پر مباحثوں میں ججوں کے حوالے سے تضحیک آمیز الفاظ استعمال نہ کیے جائیں۔
 |
|
اعتزاز احسن |
صحافیوں نے سپریم کورٹ کی ہدا یات کوآزادی صحافت پر ضرب قرار دیا ہے جب کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اگر آزادی صحافت کو دبانے کے سلسلے میں کوئی اقدام اٹھایا گیا تو وہ اس سلسلے میں صحافی برادری کا مقدمہ مفت لڑیں گے۔