 |
|
ایہود اولمرٹ |
تازہ رائے عامہ میں بتایا گیا ہے کہ ایک امریکی کاروباری شخص سے رشوت لینے کے الزامات پر، اسرائیلیوں کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ وزیرِ اعظم ایہود اولمرٹ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔
جائزے کی تفصیلات اخبار ’ییڈیوٹ اہرونوٹ‘ میں آج پیر کے دِن شائع ہوئی ہیں، جِن سے معلوم ہوا ہے کہ 59فی صد اسرائیلی استعفےکے حامی ہیں، جب کہ 33فی صد سمجھتے ہیں کہ اُن کواپنی میعاد مکمل کرنی چاہیئے۔
ساٹھ فی صد کا کہنا ہے کہ وہ مسٹر اولمرٹ کے بے گناہ ہونے کے بیانات کو درست نہیں سمجھتے۔
اسرائلیوں کے دس میں سے چار کا کہنا تھاکہ مسٹر اولمرٹ کی کابینہ میں وزیرِ خارجہ زِپی لیونی، جو کہ مرکزیت پسند قدیمہ پارٹی کی سربراہ ہیں، وہ اِس قابل ہیں کہ اولمرٹ کی جگہ لے سکیں۔
مسٹر اولمرٹ پر الزام ہے کہ اُنہوں نے مورس تلنسکی نامی ایک امریکی کاروباری شخص سے لاکھوں ڈالر کی رشوت لی تھی، جب کہ وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ یہ قانونی طور پر الیکشن مہم کے لیے وصول کردہ چندہ تھا۔
حالیہ دِنوں میں اسرائیل کی پولیس نے دونوں سے تفتیش جاری رکھی ہے۔ مسٹر اولمرٹ نے عہد کیا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں گے، اگر اُن پر الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
اتوار کو مسٹر اولمرٹ کی کابینہ میں قدیمہ پارٹی سے وابستہ وزیروں کا کہنا ہے کہ وہ عہدے پر برقرار رہنے کےاُن کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں، جب کہ پولیس اِن الزامات کی چھان بین جاری رکھے۔
وزیرِ اعظم بننے سے پہلے بھی مسٹر اولمرٹ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پرپولیس کی طرف سےمتعددتفتیشوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ تاہم اُن پر باضابطہ الزامات کبھی عائد نہیں کیے گئے۔
نوے کی دہائی میں مسٹر اولمرٹ یروشلم کے دو بار میئر منتخب ہوچکے ہیں اوراپنی سابقہ سیاسی جماعت، لِیکُد ، میں مختلف عہدوں کے لیے کوشاں رہے ہیں۔