 |
| برما کے طوفان زدہ علاقوں کے باشندے |
ایک امریکی فوجی باربردار طیارہ کئی ٹن امدادی سامان لے کر پیر کے روز رنگون میں اترا۔
سمندری طوفان نرگس کے برما سے ٹکرانے کے ایک ہفتے بعد یہ امریکہ کی جانب سے آنے والی پہلی امدادی پرواز ہے۔ عالمی برداری برما کی حکومت پر یہ زور دے رہی ہے کہ وہ غیر ملکی امداد کے لیے اپنے دروازے بین الاقوامی برداری پر کھول دے۔
تھائی لینڈ میں قائم امریکی فضائی مرکز سے سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے پینے کا پانی، مچھردانیاں اور کمبل بھیجے گئے ہیں۔ اس طیارے سے بحر الکاہل میں امریکی بحریہ کے کمانڈر اور دوسرے امریکی عہدے دار بھی برما پہنچے ہیں۔
ایڈمرل ٹموتھی کیٹنگ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ اپنے ساتھ برما کے اعلی فوجی کمانڈروں کے لیے ایک خط لے کر جارہے ہیں جس میں انہیں امریکی فوجی جہازوں ، ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کی مدد کی پیش کش کی گئی ہے۔
برما کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس طوفان میں28400 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے اورکم از کم37 ہزار افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ اقوام متحدہ نے پیر کے روز انتباہ کیا ہے کہ اگر بین الاقوامی امدادی کوششیوں کی رفتار تیز نہ کی گئی تو مزید جانی نقصان ہوسکتا ہے۔
اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ برما میں تقریباً 20 لاکھ افراد کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔