 |
|
اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرٹ |
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے مصری انٹیلی جنس کے سربراہ سے کہا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ معاہدے میں اسلحے کی سمگلنگ ختم کرنے اور اغوا شدہ اسرائیلی فوجیوں کو رہا کرانے کر شرائط شامل ہونگی۔
مسٹر اولمرٹ نے آج جناب عمر سلیمان سے ملاقات کی جو غزہ کی پٹی پر قابض حماس کےراہنماؤں کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ کرانے کے لیے اسرائیلی راہنماؤں سے بات چیت کررہے ہیں۔مسٹر اولمرٹ نے کہا کہ گِلاد شالت کی رہائی، غزّہ میں صورتِ حال کو معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کریگی۔
عسکریت پسند تنظیم حماس کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل، غزّہ پر عاید پاندیاں ختم کر دے تو وہ جنگ بندی کے کسی معاہدے کے لئے راضی ہوسکتی ہے۔اسکے علاوہ حماس کا مطالبہ ہے کہ مسٹر شالت کی رہائی کے عوض سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ اسرائیلی عہدے داریہ چاہتے ہیں کہ مسلح فلسطینی گروہ جن میں حماس کے عسکریت پسند بھی شامل ہیں، اپنے حملے اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ روک دیں۔
جناب سلیمان نے آج اسرائیلی وزیرِ دفاع ایہود براک سے بھی ملاقات کی۔ملاقات کے بعد مسٹر براک نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر فلسطینی عسکریت پسندوں نے اسرائیل پر حملے بند نہ کئے تو اسرائیل کے پاس غزّہ میں ایک بڑی کارروائی کے سوا چارہ نہیں ہوگا۔
زمینی صورت حال یہ ہے کہ پچھلےسال جون میں غزہ پر حماس کے قبضے کے بعد سے اسرائیل اور مصر نے غزہ کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کررکھی ہیں۔
ایک اور خبر میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں قائم واحد بجلی گھر کے لیےپیر سے ایندھن کی فراہمی دوبارہ شروع کردی ہے جو ہفتے کے روز فلسطینی عہدے داروں کے مطابق ایندھن نہ ہونے کے باعث بند ہوگیا تھا۔