 |
|
صدر سٹی |
عراق میں امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ان تین مسلح افراد کو ہلاک کردیا ہے جنہوں نے بغداد کے صدر سٹی ضلع میں فائر بندی کے معاہدے کے باوجود امریکی گشتی دستے پر حملہ کیا تھا۔
امریکی عہدے داروں نے ایسے کئی واقعات کی نشان دہی کی ہے جواتوار کی شام اور پیر کی صبح ہوئے۔
صدر سٹی کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت کی جانب سے ہفتے کو فائر بندی کے معاہدے کے اعلان کے بعد سے مجموعی طورپر تشدد میں کمی آئی ہے۔
اس معاہدے کے لیے اہم سیاسی شیعہ بلاک اور شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے ۔صدر سٹی مقتدیٰ الصدر کی ملیشیاء کا ایک مضبوط گڑھ ہے۔
مارچ میں جب عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے مسلح شیعہ فرقے کے خلاف پکڑ دھکڑ کا حکم دیا تھا ،تب سے اس ضلع میں جھڑپوں کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
امریکی فوج کئی بار یہ کہہ چکی ہے کہ وہ الصدر کی مہدی آرمی ملیشیاء کے شرپسند عناصر کے خلاف لڑ رہی ہے۔ الصدر کی ملیشیاء کے ایک بڑے حصے کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پچھلے سال اگست میں مقتدی ٰ الصدر کی جانب سے دیے جانے ایک عمومی فائر بندی کے حکم کی پابندی کررہے ہیں۔
پیر ہی کے روز کرد عہدے داروں نے کہا ہے کہ ترکی کے جنگی طیاروں نے شمالی عراق میں مسلسل تیسری رات بھی باغی کردوں کے ٹھکانوں پر بم برسائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملے عراقی صوبے دھوک کے دور افتادہ علاقے میں ترک سرحد کے قریب کیے گئے۔
ایک اور خبر کے مطابق امریکی فوج نے کہا ہے کہ اتوار کی رات شمال مغربی بغداد میں سڑک کنارے نصب ایک بم دھماکے میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگیا ۔