سربیا میں اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں مغرب نواز صدر بورس ٹیڈک کی جماعت پارلیمنٹ میں ایک بڑے گروپ کی حیثیت سے سامنے آئی ہے جس کے نتیجے میں سربیا کے سیاسی راہنماؤں کو نئی حکومت کی تشکیل میں مشکل حالات کا سامنا ہے۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق صدر کے ڈیموکریٹک اتحاد نے تقریباً 39 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ان کی حریف سخت گیر قوم پرست جماعت کو 29 فی صدووٹ ملے ہیں۔
سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم ووجس لاف کوس ٹونیچا کی ڈیموکریٹک پارٹی آف سربیا 11 فی صد ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہی اور سابق یوگوسلاویہ کے صدر سلوبوڈان ملاسووچ کی سوشلسٹ پارٹی کو تقریباً 8 فی صد ووٹ ملے ہیں۔
ان انتخابات میں سربیا کے مستقبل کے بارے میں اختلافات نمایاں رہے ۔ مسٹر تادیچ کا اتحاد یورپ کے ساتھ اور بالآخر یورپی یونین کی رکنیت کے لیے مزید گہرے تعلقات کا خواہاں ہے۔ قوم پرست گروپ کوسوو کی جانب سے آزادی کے حالیہ اعلامیے پر برہم ہیں اور وہ روس کے ساتھ مزید گہرے تعلقات چاہتے ہیں۔
سرکاری نتائج جمعے کو متوقع ہیں۔
ستمبر کے وسط تک اگر ملک میں نئی حکومت قائم نہ ہوئی تو وہاں لازمی طورپر نئے انتخابات ہوں گے۔
ایسا کو ئی بھی اتحاد جو 250 رکنی پارلیمنٹ میں 126 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل کرسکتا ہے، وہ حکومت بنا سکتا ہے۔