شدید معاشی دباؤ کا شکار پاکستان کا تجارتی خسارہ دس ماہ میں بڑھ کر 16ارب80کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا اور ابھی مالی سال ختم ہونے میں ڈیڑھ ماہ باقی ہے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ خسارہ 19اور 20ارب ڈالر کے درمیان رہے گا۔
رواں سال کے دوران، تجارتی خسارہ ماہ بہ ماہ تاریخ کی نئی بلندی چھوتا رہا اور اِس وقت خسارہ ملک کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔
گذشتہ مالی سال کے دس ماہ کے دوران خسارہ 11ارب 14کروڑ ڈالر تھا جو 50فی صد کی شرح سے بڑھ کر اِس وقت 17ارب ڈالر کی سطح کو چھو رہا ہے۔
تجارتی خسارہ بڑھانے میں سب سے بڑا حصہ تیل اور تیل کی مصنوعات کی درآمد کا ہے جِس کی نہ صرف قیمتوں میں توقعات سے زیادہ اضافہ ہوا بلکہ پیٹرولیم مصنوعات کی طلب بھی ملک میں بڑھی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت اِس وقت 125ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔ اِس کے علاوہ خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بھی ملک کے درآمدی بِل میں نمایاں اضافہ ہوا جب کہ صنعت اور زراعت کے شعبوں کے لیے کپاس اور کھاد کی درآمد بھی بڑھی ہے۔
اشیائے خوردونوش کی قلت دور کرنے کے لیے گندم اور دالوں کی درآمد کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اگر برآمدات کو دیکھیں تو رواں سال کے دس ماہ کے دوران 15ارب 25کروڑ ڈالر کی اشیا اور خدمات برآمد کی گئیں۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھاری تجارتی خسارے کی وجہ سے توازنِ ادائگی بھی بری طرح متاثر ہوا ہے اور توازنِ ادائگی کا خسارہ اختتامِ سال تک بڑھ کر 14ارب95کروڑ ڈالر تک پہنچ جائے گا۔