 |
| چین میں زلزلے سے متاثرہ علاقے کا ایک منظر |
چین کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہآج پیر کے روز چین کے جنوب مغربی صوبے سیچوان میں آنے والے شدید زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ساڑھے آٹھ ہزار تک ہو سکتی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا کے مطابق صرف بیچوان کاونٹی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین سے پانچ ہزار کے قریب ہے، جبکہ زخمی ہونے والے کی تعداد بھی دس ہزار کے قریب ہو سکتی ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ80 فی صد عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں۔
زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ایک قصبے کے دو پرائمری اسکولوں کی عمارت بالکل منہدم ہو گئی ہے اور اس کے ملبے تلے آنے والے تقریباً 900 طلبا کے بارے میں ابھی کوئی واضح خبر نہیں مل سکی ہے۔
امریکی صدر بش نے چین میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر تعزیت کرتے ہوئے پیش کش کی ہے کہ امریکہ اس موقعے پر ہر ممکن طرح سے مدد کے لیے تیار ہے۔
چین کے صدر ہو جنتاؤ نے حکم دیا ہے کہ متاثرہ افراد کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔ وزیر اعظم وین جیاباؤ امدادی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے علاقے کا دورہ کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم وین نے سرکاری میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس زلزلے سے کافی تباہی آئی ہے ، انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کو صبر و تحمل سے برداشت کریں۔
تباہ شدہ علاقے میں امدادی کارروائیوں میں مدد دینے کے لیے پولیس اور فوج کی اضافی نفری بھی پہنچ گئی ہے۔
زلزلے کے جھٹکے بنگکاک، ہانگ کانگ ، ویت نام اور تائیوان میں بھی محسوس کیے گئے۔
زلزلے کا مرکزی مقام بیجنگ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار کلو میٹر فاصلے پر تھا۔
امریکی محکمہ ارضیات کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت 7 اعشاریہ 8 تھی۔