 |
|
برما کے طوفانزدگان |
برما نے اعلان کیا ہے کہ سمندری طوفان نرگس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 34 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد ایک لاکھ تک ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کے شعبے کی ترجمان خاتون الزبتھ بائر نے کہا ہے کہ کم از کم 15 لاکھ افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ اور ان میں صرف ایک تہائی کو امداد بہم پہنچائی جا سکے گی۔
اقوامِ متحدہ نے انتباہ کیا ہے کہ ناقص صحت عامّہ کی سہولتوں کے باعث متعدی بیماریوں کے پھوٹنے کا امکان ہے۔
دوسری طرف برما کے فوجی حکمرانوں نے سمندری طوفان سے بحالی کی کوششوں میں مدد کے لیے بین لاقوامی کارکنوں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کو مسترد کردیا ہے۔
سرکاری اخبار نیولائٹ آف میانمار میں شائع شدہ بیان میں وائس ایڈمرل سوئی تھین نے کہا کہ برما کو ابھی ماہر امدادی کارکنوں کی ضرورت نہیں ہے۔
ایڈمرل نے کہا کہ نرگس نامی طوفان سے متاثرہ افراد کی ضروریات کو ہر ممکن حد تک پورا کردیا گیا ہے۔
برما کے فوجی راہنماؤں کی جانب سے اس سانحے پر ان کے درعمل سےبین الاقوامی برادری کی تشویش دن بدن بڑھ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ برما میں لگ بھگ 20 لاکھ لوگوں کو ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ انتباہ کیا ہے کہ ملک میں مزید امداد پہنچانے کی ضرورت ہے اور اس کی ترسیل تیز تر ہونی چاہیے۔ پہلی امریکی امدادی پرواز پیر اور دوسری منگل کے روز برما پہنچی۔
پیر کے روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے انتباہ کیا تھا کہ اگر برما کے لیے امدادی سامان میں اضافہ نہ کیا گیا اور اس کی ترسیل تیز تر نہ کی گئی تو وہاں پر ایک ایسی متعدی بیماری پھیل سکتی ہے جس سے موجود صورت حال مزید ابتر ہوسکتی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے برمی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے لوگوں کو اولیت دیں ۔ انہوں نے کہا کہ مدد کی بین الاقوامی کوششوں کا تعلق سیاست سے نہیں بلکہ زندگیاں بچانے سے ہے۔