 |
| پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف |
سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کی پارلیمانی پارٹی کا یہ متفقہ فیصلہ اور اصرار تھا کہ وہ قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں حصہّ لیں۔
انہوں نے یہ بات وائس اف امریکہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ ” اس وقت جو عدلیہ ہے اس کو میں نہیں مانتا۔ پچھلی بار جب صدر مشرف نے میرے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کروائے تھے تو میں شکایت لے کر عدلیہ کے پاس نہیں گیا تھا کیوں کہ مجھے اس پر اعتماد نہیں ہے اور آج بھی وہی کیفیت ہے“۔
ججوں کی بحالی کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مری میں کیے ہوئے وعدے پر ہم اور پیپلز پارٹی پابند ہیں اور اس وعدے کی تکمیل ہونا تھی۔ میں اسے اپنی قومی ذمّہ داری سمجھتا ہوں کہ سیاسی مفادات اور اقتدار کو ایک طرف رکھ کر اور اپنے قومی مفاد پر یکسو ہو کر ججوں کو بحال کریں۔
نواز شریف نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے لیے ہم وکلا برادری کا پورا ساتھ دیں گے۔ یہ کام ہم کسی تصادم کی غرض سے نہیں بلکہ ایک قومی ذمّہ داری کے طور پر کر رہے ہیں۔
ہم نے یہ کہا ہے کہ ہم استعفے دے رہے اور کابینہ چھوڑ رہے ہیں، لیکن مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانے یا غیر مستحکم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کریں گے۔ اسی طرح ہمارا یہ بھی موقف ہے کہ ہم ججوں کی بحالی کے لیے ہر قدم اٹھایئں گے اور ہم اس کے لیے تحریکوں میں حصّہ لیں گے۔
مستقبل میں پنجاب کے سیاسی حالات کے بارے میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ہم پاکستان پیپلز پارٹی کی مینڈیٹ کا جس طرح احترام کررہے، اسی طرح توقع ہے کہ پیپلز پارٹی بھی ہمارے مینڈیٹ کا احترام کرے گی۔ جہاں تک پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کا امکان ہے تو مشرف صاحب کا یہی ایجنڈا ہے۔ ان کا بس چلے تو وہ نہ صرف پنجاب بلکہ مرکز میں بھی موجودہ حکومت کو ختم کرکے اپنی مرضی کی حکومت بنالیں۔ اس وقت عدلیہ ان کی جیب میں ہے اور وہ جو چاہیں، اس سے فیصلہ کروا سکتے ہیں۔