 |
| ملبے تلے دبا ایک چینی نوجوان امداد کا منتظر ہے |
آج منگل کے روز امدادی کارکنوں کی ٹیمیں سی چوان صوبے میں منہدم عمارتوں کے ملبے تلے ہزاروں لوگوں کی جان بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ کل پیر کے دن آنے والے زلزلے میں 12 ہزار سے زیادہ اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا کا کہنا ہے کہ پچھلے تین عشروں میں یہ مہلک ترین زلزلہ تھا۔
آج منگل کے روز پہلی امدادی ٹیم وین چوان پہنچی جہاں کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ابھی تک وہاں ہونے والی ہلاکتوں کی مصدقہ تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔تاہم زنہُوا کی ابتدائی اطلاع میں کہا گیا تھا کہ زلزلے میں دب کر ہلاک ہونے والوں کی بہت بڑی تعداد ہے۔اطلاع میں یہ بھی کیا گیا تھا کہ زلزلے کی شدّت سے عمارتوں کے منہدم ہونے کے باعث ستّر فی صد سڑکیں اور پل ناکارہ ہو چکے ہیں۔
بعد میں سرکاری ٹیلی ویژن پر دکھا ئی جانے والی اطلاعات کے مطابق وزیرِ اعظم نے متاثرہ مقامات پر پہنچ کر سڑکوں سے فوری طور پر ملبہ ہٹانے کے احکامات جاری کئے ہیں تاکہ امدادی کارکن وہاں آسانی سے آ جا سکیں۔50 ہزار سے زیادہ فوجی امدادی کاموں کے لئے بھیج دئے گئے ہیں تاکہ عمارتوں کے ملبے میں دبے افراد کو نکال سکیں۔
امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ چین کے زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے پانچ لاکھ ڈالر کی امداد دے گا۔ آج منگل کے روز امریکی صدر بش نے چین کے صدر ہو جنتاؤ سے بات کی اور اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہر قسم کی مدد کے لیے تیار ہے۔