گذشتہ دس سالوں کے دوران پاکستان میں دمے کے مرض میں 76فیصد اضافہ ہواہے اور اس وقت ملک کی پانچ فیصد آباد ی اس جان لیوا مرض میں مبتلا ہے۔یہ بات سینے کے امراض کے ڈاکٹروں اور ماہرین کی تنظیم پاکستان چیسٹ سوسائٹی (PCS) کے ایک ملک گیر جائزے کے بعد سامنے آئی ہے۔
 |
|
سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر ارشد جاوید |
سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر ارشد جاوید نے وائس آف امریکہ سے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ دمے کا مرض صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی بڑھ رہا ہے جس کی ممکنہ وجوہات ہیں صنعت کاری، موحولیاتی آلودگی اور شہرکاری میں اضافہ ہے۔ انھوں نے کہاکہ ماضی میں پاکستان میں دمے کی موجودگی کے حوالے سے کوئی جامع تحقیق نہیں کی گئی اور اکثر لوگوں میںآ گاہی نہ ہونے کے باعث اس مرض کی تشخیص بھی نہیں ہوپاتی تھی۔ ڈاکٹر ارشد نے کہا کہ پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے سروے سے پاکستان میں دمے کی موجودگی کی جو شرح سامنے آئی ہے وہ اگرچہ بہت سے ترقی یافتہ ملکوں کی نسبت کم ہے تاہم ابھی بھی یہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ ملک میں دمے سے ہر سال بڑی تعداد میں اموات واقع ہو رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دمہ مکمل طور پر قابل علاج مرض ہے جس کے شکار افراد صحیح ادویات کے استعمال اور اپنے معالج کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ایک نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔دمہ بنیادی طور پر ایک موروثی مرض ہے جو والدین کے ذریعے پیدائش کے وقت بچوں تک منتقل ہو سکتا ہے۔تاہم یہ کوئی چھوت کا مرض نہیں ہے اور نہ ہی روزمرہ کے میل جول یا ہاتھ ملانے سے پھیلتاہے۔