 |
| برما میں متاثرین خوراک اور پانی کے حصول کے لیے پریشان کھڑے ہیں |
برما میں، جہاں پہلے ہی ایک شدید گرد باد نرگس نے بیس لاکھ لوگوں کو بے گھر کر رکھا ہے ،اب ایک اور بڑے طوفان کی آمد آمد ہے۔
پرل ہاربر، ہوائی میں واقع طوفانوں سے پیشگی آگاہ کرنے والے ادارے نے جو امریکی محکمہء دفاع کا حصہ ہے، آج بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ یہ طوفان اس راستے پر چلے گا جہاں دریائے ایراوتی کا زرعی ڈیلٹا اسکی زد میں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ طوفان آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر طوفانی ہواؤں میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے تین ماہ میں، یعنی مون سوُن سے پہلے، اگر کسان کھیتوں میں جا کر چاول نہ بو سکے تو اندیشہ ہے کہ ملک خوراک کی شدید قلت کا شکار ہو جائیگا۔
اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے کی ایک ترجمان امیندا پِٹ نے کہا ہے کہ طوفان سے متاثرہ افراد کو جو تھوڑی بہت ا مداد پہنچ رہی ہے وہ ناکافی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بحران میں زندہ بچ جانے والوں کو بیماریوں کا خطرہ ہے جس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں ،جو پہلے ہی 34ہزار کے قریب ہے، اضافہ ہو جائیگا۔
تھائی لینڈ کے وزیر اعظم سماک سندراویج آج بدھ کے روز برما پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ حکومت سے اپیل کریں گے کہ وہ بین الاقوامی امداد زیادہ سے زیادہ قبول کریں۔
برما کی فوجی حکومت نے تھائی لینڈ کی اس پیش کش کو منظور کر لیا ہے کہ تھائی لینڈ کے امدادی کارکن تباہ شدہ علاقوں میں جائیں گے۔
اگلے ہفتے سنگاپور میں جنوب ایشیا کے وزراء خارجہ کا اجلاس ہو رہا ہے۔ جس میں برما میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی پر غور کیا جائے گا۔