 |
| جے پور میں کرفیو کے نفاذ کے بعد بچّے بند دروازے کے پییچھے کھڑے باہر دیکھ رہے ہیں |
راجستھان کے تاریخی ثقافتی شہر جے پور میں منگل کے روز ہونے والے بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 80سے تجاوز کرگئی ہے، جب کہ شہر کے 15پولیس تھانوں میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جِن سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
اُدھر، بھارتی وزیرِ مملکت برائے داخلہ پرکاش جیسوال نے کہا ہے کہ دھماکوں میں جِن دہشت گرد گروپوں پر شبہ کیا جارہا ہے اُن کا قطعی تعلق، اُن کے بقول، ہمارے پڑوسی ملک سے ہے۔
بدھ کے روز،بھارت میں امریکی سفیرڈیوڈ مِلفورڈ نے خارجہ سیکریٹری شِو شنکر مینن سے ملاقات کی اور تفتیش میں امریکی مدد کی پیش کش کی۔ بعد میں، اُنہوں نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ اگر بھارتی حکومت چاہے تو امریکہ دھماکوں کی تفتیش میں مدد کر سکتا ہے۔ امریکہ نے دھماکوں کی مذمت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان کے صدر پرویز مشرف اور وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے بھارتی ہم منصبوں سے بات کی اور اظہارِ تعزیت کے ساتھ دھماکوں کی مذمت کی ہے۔
دریں اثنا، دھماکوں کی جانچ کرنے والی پولیس نے کہا ہے کہ دھماکوں میں حرکت الجہادِ اسلامی اور لشکرِ طیبہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ ایک طرف جہاں بھارتی حکومت نے جے پور کے سلسلے وار بم دھماکوں میں پاکستان کی طرف انگشت نمائی کی ہے وہاں دوسری طرف خارجہ سیکریٹری شِو شنکر مینن نے کہا ہے کہ 20اور 21مئی کو اسلام آباد میں خارجہ سیکریٹری اور وزارتِ خارجہ کی سطح کے مذاکرات میں دہشت گردی کا موضوع سرِ فہرست ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے منتخب چھ موضوعات میں یہ اضافی موضوع ہوگا۔
بدھ کے روز دہلی میں اخباری نامہ نگاروں سے بات چیت میں، اُنہوں نے کہا کہ ہم نے کہا ہے کہ تشدد کا خاتمہ اور سرحد پار کی دہشت گردی کو روکنا ایجنڈے میں سرِ فہرست ہے۔
شِو شنکر مینن نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ دراندازی اپنے آپ ایک مسئلہ ہے۔ اُن کے بقول، ہم اِس سے،اپنے طور پر بھی نمٹیں گے اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی مدد سے بھی اِسے ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔
اُنہوں نے جے پور سلسلے وار بم دھماکوں کے بارےمیں کسی کو بھی موردِ الزام ٹھہرانے سے انکار کیا اور کہا کہ جانچ سے پتا چل جائے گا کہ کون لوگ ذمہ دار ہیں۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کے ساتھ جے پور دھماکوں پر بھی تبادلہٴ خیال ہوگا، تو اُنہوں نے کہا کہ ہم ابھی تفتیش کے مرحلے میں ہیں، جب کسی نتیجے پر پہنچیں گے تو اِس کا فیصلہ کریں گے کہ ہم کو کیا کرنا ہے۔