بدھ کو جنوبی وزیرستان کے علاقے کوٹکی سے فوج کی واپسی کا عمل شروع ہوا، جب کہ ایک روز قبل حکومت اور بیت اللہ محسود کے درمیان رابطے بحال ہوئے۔
فوج کے ترجمان نے اِس عمل کو علاقے میں ’رِی اجسٹ منٹ‘ کا حصہ قرار دیا ہے۔
بدھ کے روز مذاکرات میں مزید پیش رفت ہونے پر حکومت نے مختلف جیلوں میں قید 32مبینہ طالبان کو شمالی وزیرستان کے سرحدی قصبے رزمک میں قبائلی جرگے کے حوالے کیا، جب کہ بیت اللہ محسود کے ساتھیوں نے مختلف اوقات میں اغوا کیے جانے والے سیکیورٹی فورسز کے 12اہل کاروں کو کوٹکی سے رہا کر دیا ہے۔
رہا کیے جانے والے اہل کاروں میں فوج کے دو کیپٹن بھی شامل ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں ہونے والی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے، سینیٹر مولانا صالح شاہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا: ’ہر فریق ایک دوسرے کے شرائط کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے، اور آئندہ کے لیے وزیرستان میں خصوصاً اور پورے قبائل میں عموماً امن و امان قائم ہوگا۔‘
خیال رہے کہ حکومت اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان ہونے والے اِن معاہدوں پر امریکی حکام نے کئی بار تحفظات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ اِن معاہدوں کی آڑ میں امریکی حکام کے بقول، شدت پسند نہ صرف اپنے آپ کو منظم کر رہے ہیں بلکہ سرحد پار افغانستان میں اتحادی افواج کے حملوں میں بھی تیزی لا رہے ہیں۔