 |
| پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیر مین آصف علی زرداری |
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ معزول عدلیہ کی بحالی کے معاملے پر پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے ساتھ اختلاف صرف معزول ججوں اور پی سی او کے تحف حلف اُٹھانے والے ججوں کے معاملے پر ہے۔
لندن مذاکرات کی ناکامی کے بعد بدھ کے روز اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، اُنہوں نے کہا:’میاں صاحب کا یہ کہنا ہے کہ آپ نو ٹی فیکیشن کردیں اور ڈی نوٹی فیکیشن کردیں۔ اور میری لیگل ٹیم کی یہ سوچ ہے کہ اگر ہم قرارداد اِس صورت میں سامنے لے آئے کہ کچھ ججز ڈی نوٹی فائی ہوں اور کچھ جج نوٹی فائی ہوں، تو موجودہ ججز رِی ایکٹ کریں گے اور اُن کی طرف سے ایک اسٹے آرڈر آجائے گا۔ اُس پہ میری نظر میں ایسا کرنے سے ایک آئینی بحران آجائے گا۔‘
اُنہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی معزول عدلیہ کی بحالی کے حق میں ہے اور اِس حوالے سے قانونی مشاورت مکمل ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قرارداد پیش کی جائے گی۔
تاہم، اُنہوں نے کہا کہ اِس سلسلے میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دِی جا سکتی۔
اُنہوں نے کہا کہ وہ نواز شریف کے ساتھ قائم مخلوط حکومت کو آگے لے کر چلنا چاہتے ہیں اور وہ عدلیہ کی بحالی کے معاملے پر نواز شریف کو قائل کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین نے اِس تاثر کو مسترد کیا کہ اُن کی پارٹی کسی بھی طرح آمرانہ قوتوں کی مدد کر رہی ہے۔
اُن کے بقول، پاکستان پیپلز پارٹی نظام میں ایک ایسی بڑی تبدیلی لانا چاہتی ہے جِس کے بعد عدلیہ آزاد ہو اور پارلیمنٹ طاقتور ہو۔