جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ شمالی کوریا اپنی تمام جوہری سرگرمیوں کے اعلان کے لیے تیار ہورہا ہے تاکہ پیانگ یانگ کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے خاتمے سے متعلق طویل عرصے سے تاخیر کے شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کیا جاسکے۔
جنوبی کوریا کی وزرات خارجہ کے ایک ترجمان نے بدھ کے روز کہا کہ توقع ہے شمالی کوریا اپنی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں ایک باقاعدہ اعلان آئندہ دنوں میں چین کے حوالے کردے گا۔ چین ان چھ ملکی مذاکرات کی میزبانی کررہا ہے جس کا مقصد شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ توقع ہے کہ بیجنگ مذاکرات کے دوسرے فریقوں کو بھی اس اعلان کی نقول فراہم کرے گا۔توقع ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور ان امور پر مرکوز ہوگا کہ اعلان کے مندرجات کیا ہیں اور ان کی تصدیق کیسے کی جائے۔
شمالی کوریا اُس معاہدے کے تحت معلومات فراہم کررہا ہے جس پر پچھلے سال دستخط ہوئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت شمالی کوریا کو اپنی جوہری صلاحیت کو ختم کرنے کی سمت بڑھنے کے عوض سفارتی مراعات کے ساتھ ساتھ مالی اور توانائی کی امداد فراہم کی جائے گی۔
اگلے ہفتے واشنگٹن میں امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے سینئر سفارت کارمذاکرات کی تیاری کے لیے ملاقات کررہے ہیں۔
منگل کے روز امریکی مندوب سَنگ کِم نے کہا کہ شمالی کوریا نے امریکہ کو جو دستاویزات فراہم کی ہیں اُن میں اُس ملک کی پلوٹونیم کی پیداوار سے متعلق تمام تفصیلات موجود ہیں۔
18 ہزار 800 صفحات پر مشتمل ان دستاویزات میں یانگ بیان کے پانچ میگا واٹ جوہری ری ایکٹر اور ری پراسسنگ پلانٹ کی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کی گئیں ہیں۔