دارفر کے باغیوں کی جانب سے شہر پر ایک حالیہ حملے کی مذمت کے لیے حکومت کے زیر اہتمام ایک جلوس میں شرکت کے لیے سوڈان کے دارلحکومت خرطوم میں ہزاروں افراد اکھٹے ہوئے۔
بدھ کے روز مرد ،عورتیں اور بچے جھنڈے لہراتے اور باغی لیڈر خلیل ابراہیم کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔
ایک تقریر کے دوران سوڈانی صدر عمر البشیر نے باغی لیڈر پر اسرائیل کا ایجنٹ ہونے اور غیر ملکی ایجنڈے کا حصہ بننے کا الزام عائد کیا۔
سوڈانی فوج نے کہاہے کہ سوڈان کے دارلحکومت کے اردگرد ہونے والی لڑائی میں اس وقت 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے جب ابراہیم کی پارٹی ، تحریکِ انصاف و مساوات نے خرطوم اور اس کے جڑواں شہر اومدرمان پر ایک ایسا حملہ کیا جس کی اس سے پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔
سوڈان تشاد پر اس باغی حملے کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتا ہے۔
تشاد کسی بھی طرح سے اس میں ملوث ہونے سے انکار کرتا ہے لیکن اس نے سوڈان کےساتھ اپنی سرحد بند کردی ہے اور الزامات کی بنا پر اقتصادی تعلقا لین دین ترک کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ نے منگل کے حملے کی بھرپور مذمت کی ہے لیکن خبردار کیا ہے کہ خرطوم عام شہریوں کے خلاف انتقامی کارروائی نہ کرے۔