عرب لیگ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد حزب اللہ کے عسکریت پسندوں اور حکومت نواز ملیشیاؤں کے درمیان ثالثی اور لڑائی کے خاتمے میں مدد کے لیے لبنان پہنچ گیا ہے۔
وفدبدھ کے روز لبنان کےسرکاری راہنماؤں حزب اختلاف کے ارکان کے ساتھ بیروت میں ملاقات کررہا ہے جہاں حزب اللہ کے جنگجوؤں نے گذشتہ ہفتے لبنان میں لگ بھگ دوعشروں میں ہونے والا بدترین فرقہ وارنہ تشدد شروع کیا تھا۔
لبنان کی حکومت اور امریکہ نے ایران اور شام پر حزب اللہ کی شورش کی مدد کا الزام عائد کیا ہے۔
امریکی قومی سلامتی کے مشیرسٹیفن ہیڈلی نے منگل کے روز کہا کہ واشنگٹن شام اور ایران پر دباؤ بڑھانے کا ارادہ رکھتاہے اور وہ مشرق وسطیٰ کے دوسرے ملکوں سے بھی یہی کچھ کرنے کی اپیل کرتا ہے۔ ہیڈلی نے کہا کہ امریکہ یہ کوشش بھی کررہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اگلے ہفتے لبنان کی بدامنی سے نمٹنے کے لیے کچھ کرے۔
لبنان کی فوج نے منگل کے روز لڑائی میں مداخلت کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا جو گذشتہ ہفتے تشدد شروع ہونے کے بعد سے ایسا کوئی پہلا اعلان تھا۔
منگل کی صبح سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل نے ایران پر لبنان میں بقول ان کے ، انقلاب کی کوشش، کا الزام لگا کر اس کی مذمت کی ۔ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اس الزام کی تردید کی اور کہا کہ ایران وہ واحد ملک ہے جو لبنان میں مداخلت نہیں کررہا۔