عہدے داروں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آج بدھ کے روزافغانستان کی سرحد کے قریب باجوڑ کے شورش زدہ خطے میں میزائل کے ایک حملے میں کم از کم 12افراد ہلاک ہوئے۔
سلامتی سے متعلق عہدے داروں کا کہنا ہے کہ دو دھماکوں میں ڈماڈولہ قصبے کا ایک گھر تباہ ہوا۔خیال کیا جاتا ہے کہ اِس علاقے میں القاعدہ اور طالبان سے وابستہ جنگجو سرگرمِ عمل ہیں۔
سیکیورٹی کے شعبے سے متعلق پاکستانی عہدے دار نے کہا ہے کہ بظاہر میزائل امریکہ کے بغیر پائلٹ کے طیارے سے فائر کیا گیا۔
میزائل حملے کے بارے میں رپورٹ کی تصدیق کے لیے پاکستانی فوج کے ترجمان، میجر جنرل اطہر عباس سے فوری رابطہ نہیں ہو سکا۔
وائس آف امریکہ کے نمائندے شمیم شاہد کے مطابق طالبان تحریک کے نائب ترجمان سالار مسعود نے کہا ہے کہ مذہبی عالم مولوی عبید اللہ کے گھر سرھد پار افغانستان سے اتحادی افواج نے میزائیل داغے ہیں۔
مقامی قبائیل کا کہنا ہے کہ متاثرہ گھر ایک مدرسے سے ملحق ہے جہاں پر متعدد مقامی اور غیر مقامی طلبا قیام پزیر ہیں۔
دوسری طرف پاکستانی عہدے داروں نے بتایاہےکہ طالبان عسکریت پسندوں سے امن سمجھوتے کے حوالے سے کی جانے والی کو ششوں کے سلسلے میں پاکستانی فوجیں شورش زدہ جنوبی وزیرستان کے دیہی علاقوں اور قصبوں سے لوٹنا شروع ہو گئی ہیں۔
تاہم، ایک فوجی ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ فوجیوں کی نئے سرے سے تعینانی کی جارہی ہے، اور یہ کہ فوجیں پسپا نہیں ہو رہی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ افغان سرحد کے ساتھ فوج کی نئی سرے سے تعیناتی کے عمل سے نقل مکانی کرنے والے شہریوں کے لیے یہ ممکن ہو گا کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔