 |
| بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ |
بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ کنٹرول لائن پر فائرنگ تشویش ناک بات ہے اور اگلے ہفتے ہونے والے بھارت۔پاکستان مذاکرات میں اداندازی اور دہشت گردی کے معاملات سرِ فہرست ہونے چاہیئں۔
اُنہوں نے بدھ کی شب میں راشرپتی بھون میں ایک تقریب کے موقعے پر کہا کہ ہم نے اِس معاملے کو ڈی جی ایم او کی سطح پر اُٹھایا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ وزرائے خارجہ کی سطح پر مذاکرات میں بھارت۔پاک تعلقات سے متعلق تمام مسائیل پر تبادلہٴ خیال ہوگا، جب کہ، بھارتی وزیرِ دفاع اینٹونی نے کہا کہ کنٹرول لائن پر پاکستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ پر بھارت کی تشویش سے پاکستان کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
رپورٹوں کے مطابق، فلیگ میٹنگ میں بھارت نے اِس واقعے پر احتجاج کیا ہے۔
خیال رہے کہ بدھ کی صبح کُپواڑہ ضلعے کے تنگ دار سیکٹر میں سرحد پار سے 60راؤنڈ گولیاں چلائی گئیں۔
دہلی میں اِسے دونوں ملکوں کے مابین بین الاقوامی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
اُدھر دوسری طرف، پاکستان نے بلا اشتعال فائرنگ کی تردید کی ہے۔
انٹر سروسز پبلک رلیشنز کے ترجمان نے ایک بیان میں پاکستان کی جانب سے فائرنگ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوجی حکام نے اطلاع دی ہے کہ کنٹرول لائن پر پاکستان کی جانب سے فائرنگ کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔