پیسیئیک کاؤنٹی کی مسجد کے امام محمد قتنانی کو گیارہ ستمبر کے بعد اس لیے شہرت ملی کہ انہوں نے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے درمیان افہام و تفہیم پیدا کرنے کے لیے سرگرمی سے کام کیا۔ اس کے علاوہ امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں مثلًا ایف بی آئی وغیرہ کے ساتھ بھی مل کر کام کرنے کی کوشش کی۔
لیکن امریکی امیگریشن حکام نے امریکہ میں مستقل رہائش کے لیے فلسطینی نژاد ڈاکٹر قتنانی کی درخواست رد کر دی ہے اور اب ان کی امریکہ میں رہائش یا ملک بدری کے لیے مقدمہ جاری ہے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر قتنانی نے 1999 میں گرین کارڈ کے لیے اپنی درخواست میں جھوٹ بولا تھا کہ ان پر کبھی کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔ جبکہ اسرائیلی حکام کے مطابق امام قتنانی کو اسرائیلی فوجی عدالت نے حماس کا رکن ہونے اور اس کی حمایت کرنے پر تین ماہ قید اور جرمانے کی سزا دی تھی۔ امریکی حکومت حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتی ہے۔
امام قتنانی کی وکیل کے مطابق اگرچہ اسرائیلی فوج نے امام قتنانی کو حراست میں لیا تھا لیکن انہیں سزا نہیں ہوئی تھی۔ اور ان پر حراست کے دوران تشدد بھی کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ امام قتنانی کبھی حماس کے رکن نہیں رہے۔
نیو جرسی کے گورنر جان کورزائن سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور امام قتنانی کے حامیوں نے ان کے مقدمے کا خرچہ اٹھانے کے لیے حالیہ دنوں میں ایک لاکھ پینتیس ہزار ڈالر کے قریب جمع کیے ہیں۔
امام قتنانی کی ایک بیوی اور چھ بچے ہیں جن میں سے تین امریکہ میں پیدا ہوئے تھے۔
فی الحال ان کے امریکہ میں قیام پر بھی سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔