نیو یارک میں صحافیوں کے حقوق کی عالمی تنظیم دی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس یا سی پی جے کا کہنا ہے کہ عدالت کا کام ذرائع ابلاغ کی آزادی کو فروغ دینا ہے نہ کہ اس کی راہ میں روڑے اٹکانا۔
پاکستانی سپریم کورٹ نے پاکستان کے سب سے بڑے ٹی وی چینل جیو اور اس کے ساتھی اخبارات جنگ گروپ کو حکم دیا ہے کہ وہ تین نومبر سن 2007 سے اب تک عدلیہ کی بحالی کے معاملے پر شائع یا نشر ہونے والی تمام خبریں عدالت میں پیش کرے ۔ اس کام کے لیے عدالت نے جیو کو 22 مئی تک کی مہلت دی ہے۔
عدالت کے مطابق جیو ٹی وی چینل اور جنگ اخبار نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمد نواز عباسی کی سرکاری وزراء اور ہائی کورٹ کے ججوں کے ساتھ ایک میٹنگ کے بارے میں غلط خبر شائع اور نشر کی تھی۔
سی پی جے کے ایشیاء پروگرام کے ڈائریکٹر باب ڈیٹز کے مطابق اس حکم سے ’میڈیا کو الیکشن کے بعد دوبارہ ملنے والی آزادی ایک دفعہ پھر خطرے میں پڑ گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ عدالت کو آزادی اظہار کے حق میں فیصلے دینے چاہییں اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ’ملک میں جب بھی متنازعہ معاملات اٹھیں، ذرائع ابلاغ کو خاموش کر دیا جائے۔”
اس سے پہلے عدالت نے جیو اور جنگ گروپ پر عدلیہ کی بحالی سے متعلق رپورٹنگ پر مکمل پابندی لگا دی تھی جسے بعد میں شدید احتجاج کے بعد واپس لے لیا گیا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران کئی صحافیوں نے بیان دیا تھا کہ وہ عدالت کے اس حکم کو نظر انداز کریں گے۔
وزیر اطلاعات شیری رحمان کے مطابق ان کی حکومت عدالت کے اس حکم کی حمایت نہیں کرتی اور اس تنازعے کو حل کروانے کی کوشش کرے گی۔