Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

نیو یارک میں صحافیوں کے حقوق کی ایک تنظیم نے پاکستانی سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالے


May 14, 2008

نیو یارک میں صحافیوں کے حقوق کی عالمی تنظیم دی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس یا سی پی جے کا کہنا ہے کہ عدالت کا کام ذرائع ابلاغ کی آزادی کو فروغ دینا ہے نہ کہ اس کی راہ میں روڑے اٹکانا۔

پاکستانی سپریم کورٹ نے پاکستان کے سب سے بڑے ٹی وی چینل جیو اور اس کے ساتھی اخبارات جنگ گروپ کو حکم دیا ہے کہ وہ تین نومبر سن 2007 سے اب تک عدلیہ کی بحالی کے معاملے پر شائع یا نشر ہونے والی تمام خبریں عدالت میں پیش کرے ۔ اس کام کے لیے عدالت نے جیو کو 22 مئی تک کی مہلت دی ہے۔

عدالت کے مطابق جیو ٹی وی چینل اور جنگ اخبار نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمد نواز عباسی کی سرکاری وزراء اور ہائی کورٹ کے ججوں کے ساتھ ایک میٹنگ کے بارے میں غلط خبر شائع اور نشر کی تھی۔

سی پی جے کے ایشیاء پروگرام کے ڈائریکٹر باب ڈیٹز کے مطابق اس حکم سے ’میڈیا کو الیکشن کے بعد دوبارہ ملنے والی آزادی ایک دفعہ پھر خطرے میں پڑ گئی ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ عدالت کو آزادی اظہار کے حق میں فیصلے دینے چاہییں اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ’ملک میں جب بھی متنازعہ معاملات اٹھیں، ذرائع ابلاغ کو خاموش کر دیا جائے۔”

اس سے پہلے عدالت نے جیو اور جنگ گروپ پر عدلیہ کی بحالی سے متعلق رپورٹنگ پر مکمل پابندی لگا دی تھی جسے بعد میں شدید احتجاج کے بعد واپس لے لیا گیا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران کئی صحافیوں نے بیان دیا تھا کہ وہ عدالت کے اس حکم کو نظر انداز کریں گے۔

وزیر اطلاعات شیری رحمان کے مطابق ان کی حکومت عدالت کے اس حکم کی حمایت نہیں کرتی اور اس تنازعے کو حل کروانے کی کوشش کرے گی۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر

  مزید خبریں