پاکستان کی موجودہ صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے اسکالر ڈاکٹر فاروق حسنات نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت دو متوازی حکومتیں کا کررہی ہیں۔ ایک حکومت ایوان صدر میں قائم ہے اور دوسری حکومت وزیر اعظم کے تحت چل رہی ہے۔ ملک کی صورت حال سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ وجود میں آجانے کے باوجود بھی اصل اختیارات ایوان صدر کے پاس ہیں ۔ ڈاکٹر پروفسر حسن عسکری رضوی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان موجودہ اختلاف کی وجہ ججوں کی بحالی کے طریقہ کار کا فرق ہے۔ مسلم لیگ 3 نومبر کے اقدامات کو غیر قانونی تصور کرتی ہے اور ان اقدامات کو واپس لینے کے لیے وہ کسی آئینی ترمیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتی جبکہ پیپلزپارٹی کا موقف یہ ہے کہ 3 نومبر کے اقدامات کو صرف پارلیمنٹ میں ترمیم کے ذریعے ہی واپس کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سوچ ایوان صدر کی سوچ سے مطابقت رکھتی ہے جو دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلاف کا باعث بنی۔ دونوں تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے الگ الگ دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہے جبکہ ایوان بالا میں حکمران اتحاد اقلیت میں ہے۔ کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ نواز کے تعاون کی ضرورت ہوگی کیونکہ ان کے پاس قومی اسمبلی سو کے قریب نشستیں ہیں۔ چنانچہ کئی ایسی ترمیمیں جن پر دونوں جماعتوں کے درمیان بنیادی اختلافات موجود ہیں، منظور نہیں ہوسکیں گی۔