کال سینٹرز پاکستان کی ایک نئی ابھرتی ہوئی صنعت ہے جو 30 فی صد سالانہ کی رفتار سے ترقی کررہی ہے۔ کراچی اور ملک کے کئی شہروں میں قائم یہ کال سینٹرز ان زیر تعلیم نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کررہے ہیں جنہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے سرمایے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں کال سینٹرز کی صنعت کو کئی مشکلات کا بھی سامناہے۔ کال سینٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عبداللہ بٹ کا کہنا ہے کہ ملک میں کال سینٹرز قائم کرنے کے لیے درکار بنیادی سہولتوں کی کمی ہے اور سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خدشات بھی اس کے پھیلاؤ کی راہ میں ایک رکاوٹ بن رہے ہیں۔
عبداللہ بٹ کا کہنا ہے کہ اس صنعت کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری آرہی ہے۔ ملک کو بیرونی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کال سینٹرز کےقیام کے لیے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائے اور امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنانے پر توجہ دے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔