پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور صدر میاں شہباز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کرلیے گئے ہیں۔
لاہور کے حلقے NA-123سے مخالف امیدواروں نے میاں نواز شریف پر، اور لاہور کے حلقے PP-154سے مخالف امیدواروں نے میاں شہباز شریف پر جو الزامات عائد کیے تھے وہ مسترد ہوگئے ہیں۔
 |
| نواز شریف اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے، پس منظر میں شہباز شریف ساتھ ہیں |
دونوں بھائیوں کے وکیل نصیر بھٹہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ فیصلہ چیلنج ہوا تو اِس کا دفاع کیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا:’اِس کا ہم دفاع کریں گے کیونکہ ہم اُن اعتراضات کے جواب دے سکتے ہیں اور ہم جواب ضرور دیں گے۔‘
واضح رہے کہ 18فروری کے انتخابات کے لیے میاں برادران کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہوگئے تھے اور اُنہوں نے اپیلیٹ ٹربیونل میں جانے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ وہ پی سی اوکے تحت حلف لینے والے ججوں کو تسلیم نہیں کرتے۔
مسلم لیگ ن کا یہ ہی موقف وفاقی کابینہ سے اُن کے وزرا کی علیحدگی کا باعث بنا ہے جِس کا اظہار پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف حالیہ انٹرویوز میں بارہا کیا کہ اعلانِ مری میں تحریری طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ عدلیہ کی دو نومبر 2007ء کی صورت پر بحالی کے لیے معاہدہ ہوا تھا۔
دوسری طرف، شریک چیرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ تین نومبر اور اُس کے بعد پی سی او پر حلف لینے والے ججوں کو، اُن کے بقول، پولیس کے ذریعے ہٹانے سے آئینی بحران پیدا ہو سکتا ہے، لہٰذا پارلیمانی ایکٹ کے ذریعے ہی مسئلے کا حل ہونا چاہیئے۔