 |
| چینی امدادی کارکن ملبے میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکال رہے ہیں |
چین نے کہا ہے کہ پیر کے روز آنے والے زلزلے کے قریبی علاقوں میں تقریباً 400 ڈیم اور پانی کی ذخیروں کو نقصان پہنچا ہے۔ چینی عہدے داروں نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔
چینی فوجی ان ہزاروں افراد کی ڈھونڈنے کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ عمارتوں کے ملبوں تلے دفن ہوگئے ہیں۔ جنوب مغربی صوبے سیچوان میں عہدے داروں نے کہا ہےکہ جن افراد کی ہلاکتوں کا پتہ لگ چکاہے ، ان کی تعداد 19 ہزار 500 سے زیادہ ہے۔
سرکاری خبررساں ادارے زن ہوا نے کہا ہے کہ فوجی دستوں کو سیچوان کے زپنگ پو ڈیم میں پڑنے والے شگافوں کی مرمت کے لیے بھیجا گیا ہے۔چین کے پانی کے وزیر چن لی نے کہا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقے میں ڈیموں، پانی ذخیرہ کرنے کی جگہوں اور پن بجلی گھروں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات کا سامنا ہے۔
چینی فوج نے امدادی کارروائیوں کے لیےسیچوان میں ایک لاکھ 30 ہزار فوجی بھیجے ہیں اور زندہ بچ جانےوالوں کو وہاں سے نکالنے اور انہیں ہنگامی امداد پہنچانے کے لیے 101 ہیلی کاپٹر مختص کیے ہیں۔
خبررساں ادارے زن ہوا نے کہا ہے کہ سیچوان کی 44 کاؤنٹیر اور اضلاع زلزلے سے بری طرح متاثرہوئے ہیں اور ہزاروں افراد کے بے گھر ہوگئے ہیں۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائیٹز نے ادویات، خوراک ، پانی اور خیموں کے فوری فراہمی کی اپیل کی ہے۔
زلزلے کے مرکزی علاقے وین چوان کاؤنٹی کے نزدیک تین قصبوں میں پھنسے ہوئے 20 ہزار افراد تک پہنچے میں مشکلات پیش آرہی ہیں، کیوں کہ وہ مٹی کے تودوں تلے دبے ہوئے ہیں۔
جمعرات کے روز ہنگامی مدد کے ماہرین کی ایک ٹیم جاپان سے چین کے لیے روانہ ہوئی ۔ 30 ارکان پر مشتمل یہ ٹیم جمعے کےرو ز صوبے سیچوان کے دارلحکومت چن ڈو پہنچے گی اور بظاہر یہ پہلی غیر ملکی ٹیم ہوگی جسے وہاں کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔