 |
| صدر بش یروشلم میں اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کر رہے ہیں |
امریکی صدر جارج بش نے انتباہ کیاہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت دینے کا مطلب بقول ان کے آئندہ نسلوں کے ساتھ ناقابل بے وفائی کے مترادف ہوگا۔
جمعرات کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدر بش نے ایران کو دنیا میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا سب سے اہم ملک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو امن کی خاطر ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام ہتھیاروں کے لیے نہیں بلکہ بجلی پیدا کرنے کے لیے ہے ۔
صدر بش نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کبھی نہ ٹوٹنے والے رشتے میں بندھے ہیں۔انہوں نے اس دلیل کو مسترد کردیا کہ اگر واشنگٹن یہودی ریاست کے ساتھ اپنے تعلق ختم کردے تو مشرق وسطیٰ میں اس کے تمام مسائل کا خاتمہ ہوجائے گا۔
صدر بش نے کہا کہ اسلامی انتہاپسند تنظیموں، القاعدہ ، حزب اللہ اور حماس کو تبھی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا جب مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کو یہ احساس ہوجائے گا کہ ان تنظیموں کے مقاصد ناانصافی پر مبنی ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے اپنے دورے کےایک مقصد کے طور پر توقع ہے کہ صدر بش جنوری میں اپنا عہدہ چھوڑنے سے قبل ایک علیحدہ فلسطینی ریاست کے خد و خال پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیےاسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
اسرائیل کے بعد صدر بش سعودی عرب اور مصر جایئں گے ، جہاں وہ ان ملکوں کے لیڈروں کے علاوہ فلسطینی صدر محمود عباس اور اردن کے شاہ عبداللہ سے بھی ملیں گے۔