 |
| جے پور میں کرفیو زدہ سڑکوں پر پولیس کی گاڑیاں نگرانی کر رہی ہیں |
ایک گمنام تنظیم، انڈین مجاہدین نے جے پور کے سلسلہ وار بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ اور برطانیہ کی حمایت سے باز آجائے۔
اِس تنظیم نے دہلی کے نزدیک صاحب آباد کے سائبر کیفے سے نیوز چینلوں کو اِی میل کرکے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا کہ حکومت مسلسل امریکہ اور برطانیہ کی حمایت کر رہی ہے اور 60برسوں سے یہاں کے مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے اسے اب برداشت نہیں کیا جائےگا۔
اُدھر، پولیس نے سائبر کیفے کے مالک، شیام بھیل اور ایک خاتون سمیت تقریباً تین درجن لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ باور کیا گیا ہے کہ مذکورہ خاتون دھماکوں میں استعمال کی جانے والی سائیکلوں کی خریداری کے وقت موجود تھیں۔
اُدھر، بنگلہ دیش نے دھماکوں میں حرکت الجہادِ اسلامی کے ملوث ہونے کے الزام کو جلد بازی سے تعبیر کیاہے اور کہا ہے کہ بھارتی حکومت تفتیش مکمل ہونے سے قبل کوئی نتیجہ اخذ نہ کرے۔
خبروں میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی پولیس نے جے پور دھماکوں کے واقعات میں درجنوں بنگلہ دیشی شہریوں کو شاملِ تفتیش کیا ہے۔ منگل کے دِن متعدد دھماکوں میں 60سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دوسری طرف، راجستھان نے وزیرِ اعلیٰ، وسندرا راج کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام کے درمیان رابطے کی کمی کے باعث چھان بین کے عمل میں رکاوٹیں حائل ہیں۔
دریں اثنا بھارتی حکمراں جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے وزیرِ داخلہ شیو راج پاٹیل کے ساتھ جے پور کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی ہے۔
ساتھ ہی ہفتے کے روز جے پور میں ہونے والے آئی پی ایل کرکٹ میچ پر غیر یقینی کے بعد بادل منڈلانے لگے ہیں۔