 |
| باجوڑ ایجنسی |
اطلاعات کے مطابق باجوڑ ایجنسی کے سرحدی گاؤں دمہ دولہ میں بدھ کی شب میزائل حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 18ہوگئی ہے، جِن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اِس حملے کا نشانہ بننے والا گھر عسکریت پسندوں کا ٹھکانہ تھا۔
باجوڑ ایجنسی میں اِس حملے کے خلاف جمعرات کے روز مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے جِن میں الزام لگایا گیا کہ یہ میزائل سرحد پار سے امریکی افواج نے داغے ہیں جِن کا مقصد قبائلی علاقوں میں قیامِ امن کے لیے حکومت اور عسکریت پسندوں کے درمیان معاہدہ کرانے کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔
تاہم، وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے کہا ہے کہ اِس حملے کی وجہ سے بات چیت کا عمل متاثر نہیں ہوگا۔ ’یہ خارجی قوتیں، غالباً امریکی اور نیٹو فورسز، یہ نہیں چاہتے کہ یہاں امن قائم ہو۔ طالبان نے جو فائربندی کی اُس کی پاسداری کریں گے اور یہ لوگوں کی تمنائیں اور امیدیں ہیں کہ یہاں امن قائم ہو۔ وہ چاہتے ہیں کہ طالبان اور فوج کے درمیان امن معاہدہ طے پا جائے۔ انشا اللہ تحریکِ طالبان اِس کی پابند رہے گی اور جو مذاکرات ہیں اُن کی پاسداری کریں گے۔‘
خیال رہے کہ پاکستان میں جمہوری حکومت کے قیام کے بعداِس نوعیت کا یہ پہلا حملہ ہے۔تاہم، نہ تو پاکستان اور نہ ہی امریکی حکام نے اِس کی تصدیق کی ہے۔
پاکستانی فوج اور دفترِ خارجہ نے دمہ دولہ میں ہونے والے واقعے کے بارے میں صرف اتنا کہا ہے کہ حکام اِس کی نوعیت جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، باجوڑ ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقامی حکام نے جب حملے کا شکار ہونے والے گھر کی طرف جانے کی کوشش کی تو مظاہرین نے اُنہیں وہاں جانے سے روک دیا۔