2007 |
| ادریس لطیف |
کے لئے فو
ٹو گرافی کا پولٹزر پرائز ایک پاکستانی فوٹو جرنلسٹ ادریس لطیف کو دیا گیا جنہوں نے برما میں فسادات کے دوران زخمی ہونے والے ایک جاپانی فو ٹو گرافرکین جی ناگئی کی تصویر
اتاری تھی۔ پولٹزر پرائز صحافتی دنیا کا بےحد اہم اعزاز ہے جو ان صحافیوں اور فو
ٹو گرافرز کو دیا جاتا ہے جن کی نیوز سٹوریز اور فوٹوگرافس پولٹزر کمیٹی کے کڑے معیار
کی شرائط پر پوری اترتی ہیں۔ یہ پرائز اس قدراہم ہے کہ اسے جیتنے والی تصاویر کے
لئے واشنگٹن میں کھلنے والے نیوزیم کی ایک پوری گیلری مخصوص کر دی گئی ہے۔ افغانستان
اور پاکستان کے عام لوگوں کی کہانیوں پر منبی اپنے فیچر فو ٹو گرافس پر 2002 میں
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنا پہلا پولٹزر پرائز فو ٹو جرنلسٹ ایوارڈ حاصل
کیا تھا۔ جو اس بات کا ثبوت تھا کہ اکیسویں صدی کے اخبار کے لئے تصویروں کی بھی
اتنی ہی اہمیت ہے جتنی لکھی ہوئی خبر کی۔
پولٹزر
پرائز امریکہ کے معروف پبلشر جوزف پو لٹزر
کے نام پر 1917میں شروع ہوا تھا۔ صحافتی دنیا کے اس اہم ایوارڈ کے تحت فو ٹوگرافی
کے میدان میں پولٹزر پرائز دینے کا سلسلہ 1942 میں شروع ہوا۔ 1968 کے بعد سے بریکنگ
نیوز اور فیچر سٹوری پر الگ الگ فو ٹو گرافی ایوارڈ دیئے جاتے ہیں۔ بہترین تصویر کا
پولٹزر بیک وقت کئی تصاویر اور کبھی انفرادی تصویروں کو بھی دیا جاتا ہے۔
نیوزیم کے سینیئر
پروڈیوسر کین کرا فورڈ کہتے ہیں کہ پولٹزر پرائز صحافتی ایوارڈ بھی اتنا ہی ہے
جتنا کہ فو ٹو ایوارڈ ہے۔ اس وجہ سے بعض
اوقات سٹوری بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے جتنی کہ فو ٹو گراف۔ یہ صرف ایک اچھا فو ٹو
گراف نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسا فو ٹو گراف ہوتا ہے جس کے ساتھ اس سال کی کوئی
اہم سٹوری جڑی ہوئی ہوتی ہے۔
1942سے اب تک گیارہ سو کے قریب تصاویر پولٹزر پرائز فو ٹو ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں جو
تمام کی تمام نیوزیم کی پولٹزر پرائز گیلری میں موجود ہیں، جس کی تیاری، ترتیب اور
دستاویزی فلموں کے پس پردہ کین کرافورڈ کا
ذہن کار فرما رہا ہے۔ کین کرا فورڈ
کا کہنا ہے کہ اس ایوارڈ کے لئے اہلیت کی
شرط فو ٹو گرافس کا کسی امریکی اخبار میں شائع ہونا ہے۔ یعنی عمومی طور پر یہ اایسا
ایوارڈ ہے جس میں صرف اخبار کا پبلشر یا
خبر رساں ایجنسی ہی حصہ لے سکتی ہے. یہ صرف فو ٹو گرافر پر نہیں ہے کہ وہ پولٹزر پرائز کے لئے اپلائی کرنا چاہتا ہے۔
2002میں نیوزیم کے براڈ کاسٹ ڈویژن نے پولٹزر پرائز گیلری
کے لئے ان فو ٹو گرافرز کے انٹر ویوز جمع
کرنے شروع کئے جو پو لٹزر پرائز حاصل کر چکے ہیں۔ کین کرا فورڈ کہتے ہیں کہ انٹرویوز
کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ نیوز فو ٹوگرافرز کتنے اچھے داستان گوبھی ہوتے ہیں۔ کرافورڈ کا
کہنا ہے کہ یہ تمام فو ٹو گرافرز بہت اچھے
داستان گو بھی ہیں۔ شایدتمام فو ٹو گرافرز سے مل کر آُپ کو ایسا نہ لگتا ہو مگر تمام فو ٹو گرافرز خبر
کی اہمیت اور تصویر کےتاثر سے اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں اور چونکہ ان میں سے زیادہ تر تصویریں بہت مشکل حالات میں کھینچی
گئی ہیں۔ جنگوں، قحط، مٹی کے تودے، اور زلزلے میں۔ اس لئے ان کے پاس ایسی بہت کہانیاں
ہیں کہ کب اور کیسے حالات میں انہوں نے یہ تصویریں لیں جو وہ دوسروں کو سنا
سکتے ہیں۔
کین کرافورڈ
کہتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ پولٹزر پرائز جیتنےوالی تمام تصویروں کی تاریخی اہمیت زیادہ
ہو۔ بعض تصاویر صرف دل کو چھونےو الی بریکنگ نیوز سٹوریز کی ہوتی ہیں۔ مگردوسری جنگ عظیم، ویت
نام جنگ اور حالیہ تاریخ میں گیارہ ستمبر کی تصویروں کی تاریخی اہمیت کبھی کم نہیں
ہوگی۔
یہ ایک ہزار
منتخب تصاویر تاریخ کے مختلف لمحات ہیں جو اپنے اپنے وقت کے واقعات کا رخ تو تبدیل نہیں کر سکے مگر آنے والے کئی
سالوں تک انسانوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہیں گے۔