الیکٹرانک میڈیا
کی ترقی نے دنیا کا نقشہ، ملکوں کی سیاست اور معیشت کا رخ تبدیل کر دیا ہے مگر کیا
اس سے اخبارات کی اہمیت اور لوگوں کی اخبارات میں دلچسپی ختم ہو گئی ہے؟ واشنگٹن کے نیوزیم کی فرنٹ پیجز گیلری میں،
جہاں دنیا کے تمام خطوں کے اخبارات میں موجود ہیں، کیا ان میں پاکستانی اخبار بھی
شامل ہیں؟ ان سارے سوالات کا جواب ڈھونڈنے کے لیے چلتے ہیں واشنگٹن کے نیوزیم میں۔
عالمی سیاست
سے جرائم اور دہشت گردی کے ہاتھوں بہنے والے خون تک، اور کھیل کے میدان سے سینماکے
رنگین پردے تک، زیادہ تر غیر معمولی اور کبھی کبھار معمولی واقعات بھی خبر بن کر
اخبارات کےفرنٹ پیج یعنی صفحہ اول کی زینت بنتے ہیں۔
نیوزیم میں
فرنٹ پیج شعبے کی انچارج کیٹ کینیڈی کا کہنا ہے کہ اخبار کے فرنٹ پیج میں کچھ تو ایسا
مانوس اور جانا پہچانا ساہوتا ہے جو پڑھنے والے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ میرا
نہیں خیال کہ انٹر نیٹ میں آپ اتنی اپنائیت محسوس کر سکتے ہیں جتنا کہ اخبار کے
فرنٹ پیج سے ہوتی ہے
نیوزیم کا
فرنٹ پیج کا شعبہ کسی اخبار فروش کی دوکان یا لائبریری کا نیوز پیپر سیکشن نہیں۔ یہ
واشنگٹن کے پینسلوانیا ایونیو پر واقع وہ جگہ ہے جہاں سے گزرنے والے رک رک کر آج
کا سب سے اہم کام کر رہے ہیں یعنی تازہ اخبار کا مطالعہ۔ واشنگٹن کے نیوزیم کا
داخلی حصے کے شوکیسز میں ہر صبح دنیا کے مختلف حصوں میں شائع ہونے والے اخبارات کے
فرنٹ پیچ تبدیل کردیے جاتے ہیں۔
کیٹ کینیڈی
کا کہنا ہے کہ اخبارات کے جو فرنٹ پیجز ہمیں ہر روز ملتے ہیں وہ ہماری آن لائن ایگزیبٹ
کا حصہ ہیں تاکہ ہم تمام دنیا کو کور کر سکیں۔پھر ہم ان میں سے ایسی چیزوں کا
انتخاب کرتے ہیں جو جغرافیائی لحاظ سے متنوع ہوں۔
گیلری کے
اندر 80جبکہ نیوزیم کی ویب سائٹ پر دنیا بھر سے نکلنے والے 600اخبارات کے فرنٹ پیجز
دیکھے اور پڑھے جا سکتے ہیں کیٹ کینیڈی کہتی ہیں کہ فرنٹ پیجز کی آن لائن ایگزیبٹ
بھی بہت مقبول ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان میں سے کچھ مسافر، سیاستدان یا بزنس ایگزیکٹوزہوتے
ہیں، تو جو لوگ فرنٹ پیجز دیکھتے ہیں آن لائن یا جو ہماری گیلری میں آتے ہیں۔ ان میں
صحافی اور صحافت کے طالبعلم بھی ہیں۔ وہ اس ایگزیبٹ کومزید معلومات اور نئے آئیڈیاز
کی تلاش میں وزٹ کرتے ہیں۔
مگر ضروری نہیں
کہ یہاں آنے والے سبھی لوگوں کا تعلق صحافت سے ہو۔ کیٹ کہتی ہیں کہ فرنٹ پیجز گیلری
کتنی مقبول ہے اس کا اندازہ یہاں آنے والوں کی عمریں دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ جن
میں وہ بھی شامل ہیں جن کی عمر ابھی اخبار پڑھنے کی ہے بھی نہیں۔
امریکہ کی
پچاسوں ریاستوں کی نمائندگی تو یہاں موجود ہے ہی مگر دنیا کے جغرافیائی فاصلے کو
سمیٹنے والے اخبارات کے ان فرنٹ پیجز کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ
اخباردنیا کے کسی بھی حصے سے نکلے اس کی بنیادی شبیہہ ایک سی رہتی ہے۔ لیکن کیا
انٹر نیٹ اور ٹی وی نے خبروں کے تیزرفتارترسیل کو ممکن بنا کر اخبارات کے فرنٹ پیجز
کی اہمیت کم نہیں کر دی؟ کیٹ کینیڈی اس کا جواب انکار میں دیتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں
ہم سمجھتے ہیں کہ ایک اخبار کا فرنٹ پیج تاریخ کا فو ٹو گراف ہوتا ہے۔ میرے خیال میں
انٹر نیٹ اور آن لائن نیوز کی وجہ سے اخبارات نے اپنے فرنٹ پیجز کا سٹائل تبدیل کر
دیا ہے۔ اب آپ کو اخبارات میں زیادہ تجزیہ ،خبروں کا زیادہ گہرائی میں جا کر جائزہ
ملے گا۔ کیونکہ اخبار کا ایڈیٹر جانتا ہے کہ پڑھنے والے نے خبر تو سن یا انٹرنیٹ
پر پڑھ لی ہوگی۔ اس لئے اخبارات کے فرنٹ پیجز آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہے ہیں۔
کیٹ کہتی ہیں
کہ ہو سکتا ہے کہ اگلے پانچ یا دس سالوں میں اخبارات کی شکل ویسی نہ رہے جو اب
ہےمگر اخبارات ہماری زندگیوں سے مکمل طور پر غائب نہیں ہونگے۔
پاکستانی
اخبارات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کیٹ کا کہناتھا کہ ہم دعوت دیتے ہیں کہ
جو بھی اخبار فرنٹ پیجز گیلری پر اپنے صفحہ اول کی نمائش کے خواہش مند ہو، وہ حصہ
لے۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان کے اخبارات بھی اس ایگزیبٹ میں حصہ لیں اورہم ان کے
فرنٹ پیجز اس گیلری میں سجا سکیں۔
اخبارات کے
ان فرنٹ پیجز کی سٹوریز آنے والے کل کی تاریخ کہلائیں گی۔ مگر ضروری نہیں کہ تاریخ
کی کتابوں میں ان کا اندارج بھی اسی طرح سے ہو جیسے ان فرنٹ پیجز پر ہے مگر ان کی
حیثت تاریخ کے پہلے رف ڈرافٹ یا خام مسودے کے طور پر ہمیشہ بر قرار رہے گی۔