گزشتہ ہفتے
شمالی کوریا نے یانگ بیانگ کے ایٹمی ریکٹر کا
کولنگ ٹاور تباہ کیا اور ساتھ ہی
اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی فہرست بھی دی جس کا مدت سے انتظار تھا۔ یہ دونوں اقدام شمالی کوریا کا ایٹمی پروگرام
ختم کرنے کا حصہ ہیں جو بیجنگ میں ہونے والے 6 فریقی مزاکرات کا نتیجہ ہیں۔
مذاکرات میں
امریکہ کی نمائندگی کرنے والے سفارت کار کرسٹوفر ہل کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے حاصل
ہونے والا ہدف واضح ہے۔ کرسٹوفر ہل کا کہنا ہے کہ ہمیں ایٹمی پروگرام کو ختم کرنا
ہو گا اور یہ یقین کرنا ہو گا کہ کوئی بھی چیز باقی نہ رہے۔ ہمیں اس بات کا یقین کرنا ہو گا کہ یورینیم کی
افزودگی کا ایسا کوئی بھی پروگرام نہیں ہے جسے سامنے نہ لایا گیا ہو اور ختم نہ
کیا گیا ہو۔
پیانگ یانگ
کی طرف سے رضا مندی کے بعد صدر بش نے یہ اعلان کیا تھا کہ شمالی کوریا پر عائد
تجارتی پابندیوں کو نرم کر دیا جائے گا اور اس کا نام دہشت گرد ممالک کی فہرست سے
نکال دیا جائے گا۔ اگلے مرحلے میں اس بات کی تصدیق کی جانی ہے کہ شمالی کوریا نے
اپنی تمام ایٹمی تنصیبات کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں۔
کرسٹوفر ہل
کہتے ہیں کہ اس پورے معاملے میں تصدیق بہت اہم ہے۔ لوگ اکثر کہتے ہیں کہ آپ ان پر کیسے اعتبار کر
سکتے ہیں۔ اس کا اعتبار سے کوئی تعلق نہیں۔
اس کا تعلق مکمل طور پر تصدیق کرنے سے ہے۔
شمالی کوریا
کے لیے ہونے والے مذاکرات میں شامل 6 ممالک تصدیق کے مراحل پر گفتگو کرنے کے لیے اس مہینے اکٹھے ہو رہے
ہیں۔ کرسٹوفر ہل کا کہنا ہے کہ جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک بنانے کے
لیے بات چیت کا سلسلہ بہت اہم ہے۔
شمالی کوریا
کی جانب سے اس اعلان کا وعدہ 6 مہینے پہلے کیا گیا تھا۔ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے
بارے میں دی گئی فہرست مکمل نہیں ہے۔ ایٹمی تنصیبات کے بارے میں دی گئی فہرست میں ان
ایٹم بموں کا ذکر نہیں کیا گیا جو شمالی کوریا پہلے ہی سے بنا چکا ہے یاد رہے کہ
شمالی کوریا نے 2006 میں
ایٹمی تجربے کا اعلان کیا تھا۔
جان ولف ستھل
سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈی میں ایٹمی ہتھیاروں پر ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایمسڈر ہل کی باتوں سے مجھے جو
اندازہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اس معاملے کا مکمل حل صدر بش کے بعد آنے والے صدر کے
دور میں ہو گا۔ اور یہ صاف ظاہر ہے کہ
شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کامکمل خاتمہ اور اس کی تصدیق صدر بش کا دور ختم
ہونے سے پہلے نہیں ہو سکتی۔
شمالی کوریا کے اس اعلان نے ملک میں بین الاقوامی
امداد اور خاص طور پر خوراک اورپیٹرول کی فراہمی کے لیے راہیں کھول دی ہیں۔