امریکہ میں
کتنے لوگ ٹی وی رپورٹر بننا چاہتے ہیں شائد کسی ادارے کے پاس اس کے اعدادو شمار
موجود نہ ہوں مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ
الیکٹرانک میڈیا کی ترقی اور 24 گھنٹے کے نیوز چینلز کے
آنے کے بعد دنیا کے ہر ملک میں ٹیلی ویژن صحافت کے شوق میں اضافہ ہو رہا ہے۔ میڈیا سے متعلق عجائب گھر میں ایک ایسا شعبہ
موجود ہے جہاں رپورٹنگ کی تربیت دی جاتی ہے۔
میوزیم میں آنے والی ایک طالبہ کا کہنا ہے کہ میں شائد
میڈیکل کی فیلڈ میں جانا چاہوں گی۔ مگر میرے خٰیال میں ایک نیوز رپورٹر بننا بھی
بہت دلچسپ رہے گا۔
نیوزیم میں
موجود ایک اور سیاح اجے راؤ نے کہا کہ اگر مجھے انتخاب کا حق دیا جائے تو میں ضرور ٹی وی رپورٹر بننا چاہوں گا۔ بڑی شخصیات کے انٹرویوز کروں گا۔ یہ بڑا دلچسپ کام ہے۔ میں بڑی خوشی سے اس موقعے کا فائدہ اٹھاوں گا رپورٹنگ کے
بارے میں نیوزیم میں آئے ہوئے سعد حسین کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے
لوگ میڈیا میں آئیں۔ میں بائی پروفیشن آئل
بزنس میں ہون۔ میرا فیلڈ ذرا ڈفرنٹ ہے مگر بائی پروفیشن بہت اچھا ہوگا اگر زیادہ
ساوتھ ایشن بچے میڈیا پر فوکس کریں۔ جرنلزم میں آنے سے آپ معلومات بڑھنے کے ساتھ حب الوطنی پیدا ہوتی ہے۔
نیوزیم کی
وائس پریزیڈنٹ سوزن بینیٹ کہتی ہیں کہ عموما خبریں دیکھنے والوں کو خبروں
کی پس پردہ کہانیاں جاننے کے ساتھ خبریں کیسے بنائی جاتی ہیں کے سوال میں بھی
دلچسپی ہوتی ہے۔ اور یہی دلچسپی نیوزیم آنے والوں کو اس گیلری میں کھینچ لاتی ہے
جہاں وہ خود ٹی وی رپورٹر بننے کا شوق پورا کرتے ہیں۔ مگر تھوڑے سے پیسے دے کر۔ یعنی تفریح کی تفریح اور تعلیم کی
تعلیم۔ وہ کہتی ہیں کہ ہر شخص دیکھتا ہے ٹی وی رپورٹر کو اپنے مائیک کے ساتھ اور
سمجھتا ہے کہ یہ تو بڑا آسان کام ہے میں بھی یہ کر سکتا ہوں۔ وہ ٹیلی پرومٹر سے
پڑھ رہا تھا۔ جب وہ واقعی کیمرہ کے سامنے آتے ہیں تو انہیں پتہ چلتا ہے کہ یہ اتنا
بھی آسان نہیں ہے۔ آپ کو ٹیلی پرامپٹر پڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ سوچنا ہے کہ آپ کیا
بول رہے ہیں۔
یہاں آنے
والے نیوزیم کو دنیا کا سب سے انٹر ایکٹو میوزیم قرار دیتے ہیں۔ آسان الفاظ میں
یہاں کی ہر چیز خود آنے والے کو اپنی طرف بلاتی ہے۔ جیسے یہ انٹر ایکٹو ٹچ سکرینز۔
جہاں بیٹھے یہ مگن بچے آج خبروں کی دنیا
میں کامیابی کے داؤ پیچ سیکھ کر ہی گھر جائیں گے۔
یہاں آپ
بالکل اسی طرح فیصلے کرتے ہیں جیسے ایک صحافی یا اخباری فوٹو گرافر کو
کرنے پڑتے ہیں کہ آپ کیسے ٹیلی ویژن جرنلسٹ بن سکتے ہیں اور ویڈیو لا سکتے ہیں
اپنی سٹوری کے لئے۔ ہمیں لگتا ہے کہ بچےاس
میں بہت نیچرل ہیں۔ انہیں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی کہ وہ کیمرے کے سامنے کھڑے ہوں۔
مائیک پکڑ لیں اور وہائٹ ہاوس سے رپورٹ کریں
جبکہ جو بڑے ہیں انہیں ہچکچاہٹ ہوتی ہے
ایسا کرنے میں۔ مگر آخر میں وہ بھی یہاں
اچھا وقت گزارتے ہیں۔ امریکہ کے
قومی اخبارات ، براڈ کاسٹ اسٹیشنز اور24 گھنٹے کے نیوز چینلز میں
رپورٹر بننے کے خواہش مند امیدواروں کے درمیان صلاحیت اور مواقعوں کی مسابقت کا
سلسلہ ہمیشہ چلتا رہتا ہے۔ صحافتی صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 2006 سے 2016 کے درمیان امریکہ میں اخبارات ، ٹیلی
ویژن چیلنز اور چھوٹے براڈ کاسٹ اسٹیشنز میں رپورٹرز اور صحافیوں کی ملازمتوں میں
صرف دو فیصد اضافہ ہوگا۔ مگر نیوزیم آنے والے ان نوجوانوں اور بزرگوں کے شوق کو
دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اب ٹیلی ویژن رپورٹنگ کے میدان میں مقابلہ پہلے سے بہت
سخت ہوا کرے گا