Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

چار جولائی: امریکہ کا یوم آزادی


July 4, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - Download this file (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

150_Independence-Day

ہر سال 4 جولائی کو امریکی اپنے ملک کا یومِ آزادی مناتے ہیں۔ اس دن کو برطانوی راج کے تسلط سے آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔  ہر ملک کی طرح امریکیوں کے لیے بھی اپنا یومِ آزادی بہت اہمیت رکھتا ہے لیکن یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ جن اصولوں پر اس ملک کی بنیاد رکھی گئی تھی، آج امریکہ ان پر کس حد تک عمل پیرا ہے۔

امریکی تھنک ٹینک ایس اے آئی ایس کے اسکالر والٹر اینڈرسن اس سوال کے جواب میں کہ وہ کونسے عوامل ہیں جنہوں نے امریکہ کو دنیا کی ایک سپر پاور بنا دیا ، کہنا تھا کہ میرے خیال میں چند چیزوں نے امریکہ کو دنیا میں نمایاں مقام دلانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ اُن میں سے ایک تو اچھی قسمت ہے۔ خوش قسمتی سے امریکہ کو اپنے محل وقوع سے بہت فائدہ ہوا۔ امریکہ دنیا کے جس خطے میں واقع ہے ، وہاں کوئی ایسی بڑی طاقت موجود نہیں تھی۔ جس سے اسے کوئی خطرہ ہوتا۔ پھر 19 ویں صدی کے دوران برطانیہ نے امریکہ کے لیے ایک ڈھال کا کام کیا تاکہ یورپ کی کوئی طاقت یہاں اپنا تسلط قائم نہ کرسکے۔ ایک خوش نصیبی یہ رہی کہ کسی بھی ملک کی معاشی اور صنعتی ترقی کے لیے جو  قدرتی وسائل درکارہوتے ہیں وہ سب یہاں موجود تھے۔ امریکہ کی ترقی کی ایک اور بڑی وجہ وہ افرادی قوت تھی جو یورپ سے یہاں آئی۔ یہ لوگ ہنرمند، تعلیم یافتہ اور جمہوری ذہن رکھنے والے تھے۔  پھر امریکہ کے بانیوں نے جمہوریت اور شخصی آزادی کے جو اصول وضع کیے ، انہوں نے بھی امریکہ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

امریکہ میں عوام کو  شخصی آزادیاں اور حقوق حاصل ہوئے چند دھائیاں ہی ہوئی ہیں۔ ماضی میں امریکہ بھی کئی دوسرے معاشروں کی قدیم رسم وقیود کاشکار تھا اور معاشرے کے کئی طبقوں خصوصاً عورتوں کو حقوق حاصل نہیں تھے۔ مگر آج امریکہ میں دنیا کے اکثر ممالک سے کہیں زیادہ آزادیاں اور آگے بڑھنے کے مواقع موجود ہیں۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے  والراینڈرسن کہتے ہیں کہ امریکہ کی بنیاد جمہوریت اور عوام کو ان کی رائے کا حق دینا تھا۔ اس اعتیار سے دیکھا جائے تو امریکہ اپنے قیام کے مقاصد سے دور نہیں ہوا۔ بلکہ کئی اعتبار سے ان تصورات کو زیادہ مضبوط بنایا گیا ہے جو کہ امریکہ کے با نیوں کے سامنے تھے۔ مثلاً 20 صدی تک عورتوں کو ووٹ دینے کا حق نہیں تھا۔ پھر سیاہ فام آبادی کے ساتھ امتیازی  رویوں کو سماج میں قبولیت حاصل تھی۔ اس سے قبل یہاں غلامی بھی تھی۔ اب ہم نے ان منفی رویوں سے نجات حاصل کرلی ہے۔

امریکہ پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ تنقید کی  جاتی ہے کہ وہ ماضی میں عالمی جنگوں میں شریک ہوتا رہا ہے جن کا مقصد دوسرے ممالک اور قوموں پر غلبہ حاصل کرناتھا ۔ والٹر اینڈرسن اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے خیال میں امریکہ پر یہ تنقید درست نہیں ہے ۔ اگر آپ امریکہ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ اندازہ ہوگا کہ امریکہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں شریک نہیں ہونا چاہتا تھا۔ اسے محض  مجیوری کی حالت میں ان جنگوں میں حصہ لینا پڑا۔ امریکہ کی آبادی جن لوگوں پر مشتمل تھی ، وہ تو باہر کی دنیا کو بھلا کر اور چھوڑ کر یہاں آئے تھے۔ ہاں دوسری جنگ عظیم کے بعد تبدیلی آئی کیونکہ اس وقت ہم سپر پاور بن چکے تھے۔ اس کے بعد امریکہ نے عالمی سیاست میں مثبت کردار ادا کیا۔ ہم نے اقوام متحدہ بنوائی ۔ دیگر عالمی ادارے جیسے کہ ورلڈ بینک کی تشکیل میں مدد دی تاکہ غریب ممالک کی مدد کی جاسکے۔ امریکہ سے یقنناً غلطیاں بھی ہوئی ہیں۔ ڈکٹیٹرز کی حمایت کرکے یا غلط موقعوں پر جمہوریتوں کے قیام کی کوشش کی۔

 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
”اوباما کے اقتدار سنبھالتے ہی حملے رک جائیں گے“

  مزید خبریں
افغانستان میں کار بم دھماکا
اے آر رحمان کی نئی فلم یووراج کی موسیقی مقبولیت حاصل کر رہی ہے
نیا امریکی وزیرِ خارجہ کیسا ہو؟
ایران کے پاس بم بنانے کا سامان ہے: امریکی سائنسندان
اخراجات میں کمی: حکومت ترقیاتی منصوبوں کا ازسرِ نو جائزہ لے گی
چین میں پانچواں امریکی قونصل خانہ
امریکی حملوں کے خلاف طالبان کی انتقامی کارروائی کی دھمکی
شکاریوں سے قدرتی وسائل کے محافظ تک کا سفر
بچوں کے تحفظ کی مشترکہ مہم شروع
”بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے لیے من موہن سنگھ سے بات کروں گا“
قوم پرست لیڈر کی ہلاکت پر بلوچستان میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال
نیٹو ،افغان سپلائی لائن جاری رہے گی: پاکستان
اوباما اپنی کابینہ چننے میں مصروف ہیں
اظہار رائے کی آزادی پر ایک نئی بحث
ہلیری وزیرِ خارجہ بنیں تو بل کلنٹن کی بھی پڑتال ہو گی
بنوں میں مشتبہ امریکی میزائل حملہ، القاعدہ کے اہم رکن سمیت پانچ افراد ہلاک
فیض احمد فیض: اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
عراق میں 135 صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہوئے
گلیشیئر ز کا تیزی سے پگھلنا ماحول کے لیے خطرناک ہے
پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے: جسٹس افتخار چوہدری
اوباما کو ناکامی ہوگی، ظواہری
جاوید میانداد پی سی بی کے ڈائریکٹر جنرل مقرر
مکی ماؤس 80 سال کا ہو گیا
موجودہ عہد ادب میں ’لا نظریہ‘ کا عہد ہے:گوپی چند نارنگ
ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی صحت: عدالتی بحث جاری
اوباما سے امیدیں
اوباما وزیرِ صحت کے اہم عہدے کے لیےسابق ڈیموکریٹ سنیٹر ڈیشل کو نامزد کریں گے: میڈیا
یورپی یونین  کی طرف سے معاشی بحالی کا پیکیج
امریکہ ایشیا اور بحرالکاہل کے ملکوں سے وابستگی اور تعاون جاری رکھے گا: ایڈمرل کیٹنگ
ایران اورشام کے بارے میں عنقریب ایک رپورٹ متوقع
کمانڈو فورس کے سابق سربراہ اسلام آباد کے قریب حملے میں ہلاک
”غربت کے باعث والدین بچے ایدھی مراکز بھیجنے پر مجبور“
گجرات کے قصبے میں AIDS/HIVکے وائرس میں اضافہ
بھارتی بحریہ نے قزاقوں کا جہاز ڈبو دیا
پووپیگنڈہ لٹریچر بھیجنا بند کیا جائے، جنوبی کوریا
کمیشن میں اضافہ کیا جائے: پیٹرولیم ڈیلرز کا مطالبہ
جھنگ کا ممتاز حسین نیویارک کا ایک کامیاب فن کار  Video clip available
عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی 2011ء تک، لیکن توسیع بھی ممکن  Video clip available